سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 198 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 198

سبیل الرشاد جلد دوم 198 انسانی قومی کی چار اقسام: آج میں چند باتیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا اور احسن تقویم کی پیدائش کے نتیجہ میں اصولی طور پر اسے چار قسم کی قوتیں اور استعداد میں دی گئیں۔ایک جسمانی طاقت ہے یہ بھی ایک ایسی قوت ہے جو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔مثلاً ایک طاقت ہے تیز دوڑنے کی۔ایک شخص آگے نکل جاتا ہے اور دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ایک طاقت ہے کشتی کرنے کی ، ایک طاقت ہے تیراندازی کی ، ایک طاقت ہے بندوق چلانے کی۔چنانچہ تیراندازی کی جو طاقت ہے۔جس وقت وہ اپنے نشو و نما کے کمال پر پہنچی تو ایک محاصرے کے وقت دشمن نے اپنی فصیلوں کے اوپر تھوڑے سے مٹھی بھر مسلمانوں پر رعب ڈالنے کے لئے آدمی ہی آدمی کھڑے کر دیئے اور جبہ پوش عیسائی پادری ( شام کے علاقے کی بات ہے ) آگئے اور وہ جوش دلا رہے تھے کہ ماروان کو چھوڑ نا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت خالد بن ولید کے دماغ میں یہ عجیب بات ڈالی۔انہوں نے تیراندازوں کو بلایا اور کہا کہ جو لوگ فصیلوں پر کھڑے ہیں ان کی آنکھ کا نشانہ لو۔آنکھ کا نشانہ ! چنانچہ انہوں نے تیر چلانے شروع کئے تو ایک ہزار آدمی کی آنکھ نکال دی۔پس یہ ایک قوت ہے۔جسے اللہ تعالیٰ ہی نشو ونما دیتا ہے۔یہ عجیب نشان ہے۔ادھر حضرت خالد بن ولید کے دل میں یہ ڈالا کہ تیر اندازوں کو یہ حکم دو ادھر فرشتوں سے کہا کہ ان کے تیر پکڑ لو اور دشمن کی آنکھ میں گھسیڑ دو۔آج تیر کے مقابلے میں بندوق کا نشانہ لینا نسبتاً آسان ہے۔مگر اتنے فاصلے پر سے بندوق سے بھی آنکھ نہیں نکالی جا سکتی۔اور اتنے وقت میں ایک ہزار آدمی کی آنکھ تو نہیں نکالی جا سکتی۔بڑے اچھے نشانہ والا ہو تو پھر بھی شاید دو تین فیصد نشانہ ٹھیک بیٹھتا ہے اول تو وہ بھی مشکل ہے۔پس یہ ایک طاقت ہے۔انسان کو تیر چلانے کی قوت دی گئی ہے یہ ایک استعداد ہے جو انسان کو ملی ہے۔پھر ذہنی استعداد ہے اور اپنی ذہنی استعداد کی بناء پر کوئی کسی طرف نکلتا ہے اور کوئی کسی طرف نکلتا ہے۔اس کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے بڑا تنوع پیدا کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خلق کی کثرت اللہ تعالیٰ کی وحدت پر دلیل قائم کرتی ہے۔ہر چیز میں ایک تنوع ہے۔اس طرح نہیں جس طرح لوگ موٹر میں بناتے ہیں اور ایک ہی سانچے کے اندر ہزاروں لاکھوں نکل آتی ہیں کیونکہ انسان اور اس کی کوشش محدود ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو غیر محدود ہے۔اس کا ہر فعل دوسرے سے مختلف ہے۔اور وہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ - O کی شان رکھتا ہے۔اس کی قدرت کا ہر جلوہ ایک نئی شان کے ساتھ سورة الرحمن آیت ۳۰