سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 191
سبیل الرشاد جلد دوم 191 انصار اللہ کےسالانہ اجماع پر سیدنا حضرت خلیفہ اصبح المال رحمہ اللہ تعلی کا پر معارف اور بصیرت افروز اختتامی خطاب ۲۵ را کتوبر ۱۹۷۰ء ظاہری اور باطنی پاکیزگی کی دو علامتیں ہیں ایک خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمکلامی کا شرف دوسرے فوق العادت نشانوں کا ظہور، غلبہ اسلام کے لئے ضروری ہے کہ نہ صرف ہم خود بلکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی ان دونوں انعاموں کی مورد بنی رہیں۔حضور کا یہ خطاب کسی اخبار و رسالہ میں شائع نہیں ہوا۔اور نہ ہی اس کا کیسٹ مل سکا ہے۔اس لئے روز نامہ الفضل سے خلاصہ ذیل میں دیا جا رہا ہے۔حضور رحمہ اللہ نے اپنے روح پرور اختتامی خطاب میں (جس کا سلسلہ نزلہ اور زکام کی شدید تکلیف اور نا سازی طبع کے باوجود قریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا ) اس امر پر بہت ہی پُر معارف اور بصیرت افروز انداز میں تفصیل سے روشنی ڈالی کہ قدم صدق یا بالفاظ دیگر ظاہری اور باطنی صفائی کی کیا علامتیں ہیں اور ان سے ہر احمدی کو ہی نہیں بلکہ احمدی کی ہر آئندہ نسل کا متصف ہونا کیوں ضروری ہے؟ حضور رحمہ اللہ نے قرآنِ مجید کی آیات اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پر معارف ارشادات کی روشنی میں واضح فرمایا کہ جس انسان کو پختہ اور ہمہ گیر ایمان نصیب ہونے کے نتیجہ میں ظاہری اور باطنی صفائی میسر آ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ اپنے ایسے بندے کو دو عظیم الشان انعاموں سے نواز تا ہے ان میں سے ایک ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع کی برکت سے خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمکلامی کا شرف اور دوسرے ایسے مومن بندے کے ذریعہ فوق العادت نشانوں کا ظہور۔حضور نے ان دونوں انعاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کے بعد مزید واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہمیش جاری رہنے والے افاضہ محمدیہ کے طفیل امت محمدیہ کے افراد کو ہر زمانہ میں ہمکلامی کے شرف سے مشرف رکھنے اور ان کے ذریعہ فوق العادت نشانوں کا ظہور جاری رکھنے کے لئے قرآن مجید میں مومنوں کو دو عظیم الشان بشارتیں دی ہیں۔ایک بشارت تو قیام خلافت کے وعدہ پر مشتمل ہے جو سورۃ النور کی آیت ۵۶ میں مذکور ہے اور دوسری بشارت مومنوں پر نزول ملائکہ کے وعدہ پرستی پرمشتمل ہے جس کا