سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 151 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 151

151 سبیل الرشاد جلد دوم ہیں اور دوسرے یہ کہ یہاں انسان اللہ تعالیٰ کے اس طرح روشن چہرے کو نہیں دیکھ سکتا۔جس طرح وہ اُس جہان میں دیکھے گا۔جن لوگوں پر خدا تعالیٰ یہاں گرفت کرتا ہے ان کے متعلق ( کتنے دہریے ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ اتفاق کی بات ہے کہ ہمارے بچہ پر گرفت آ گئی وہ بے وجہ ہے اور اتفاق سے ہے۔وہ یہ نہیں کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس امتحان میں ڈالا ہے اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ میں تمہیں مصیبت میں ڈالتا ہوں اگر تم اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ کہو گے تو تمہاری یہ مصیبت کسی نہ کسی رنگ میں ٹل جائے گی۔اور تم بہت بڑے انعاموں کا وارث بنو گے۔غرض چونکہ یہ اس دنیا کی حجاب در حجاب زندگی ہے اس لئے جب اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے تو بہت سارے انسان اس غضب کو پہچانتے نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نازل ہوتی ہیں تب بھی کچھ لوگ دعائیں کرتے رہتے ہیں۔قرآن کریم میں ذکر ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو خدا سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں یہ نعمت ملے ہمیں یہ نعمت ملے۔اگر بچہ نہ ہو تو وہ دعائیں کرتے ہیں کہ ہمیں بچہ ملے، اگر غربت ہو تو وہ دعائیں کرتے ہیں کہ انہیں دولت ملے وغیرہ وغیرہ اور جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی دعاؤں کو سن کر ان کے لئے ایک امتحان کا سامان پیدا کرتا ہے اور جس کا کوئی بچہ نہیں ہوتا اُسے بچہ دے دیتا ہے اور جس کے پاس دولت نہیں اُسے غیب سے دولت مل جاتی ہے تو پھر وہ کہتا ہے کہ یہ دولت تو میں نے اپنی قوت بازو سے حاصل کی ہے یا وہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں بڑے با اثر اور بڑا رسوخ رکھنے والے دوست ہیں ان کی سفارشوں کی وجہ سے مجھے یہ دولت ملی ہے اور وہ بھول جاتا ہے کہ یہ چیز ہم نے خدا سے مانگی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ہی غیب سے یہ سامان پیدا کئے ہیں۔پس اس دنیا میں جہاں تک یہ احساس ہے کہ مجھے یہ نعمت اللہ سے اور صرف اللہ سے ملی ہے اور کوئی اور چیز میرا سہارا نہیں بن سکتی تھی ، میرا مربی نہیں بن سکتی تھی ، میرا معطی نہیں بن سکتی تھی ، میرا محسن نہیں بن سکتی تھی۔یہ چیز کھل کر اور روشن ہو کر سامنے نہیں آتی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور خود اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس کا جلوہ روشن ہو کر سامنے آجائے۔اللہ تعالیٰ کا جلوہ بھی پردوں میں ہی نظر آ سکتا ہے۔اس دنیا میں وہ روشن ہو کر نظر نہیں آ سکتا۔اس لئے اصل جلوہ اس صفت مالکیت کا تو حشر کے دن ہوگا جب سب حجاب اٹھ جائیں گے اور ہر ایک کو پتہ لگ جائے گا کہ میرے اوپر اللہ کے غضب کی نگاہ ہے اور یہاں پر مجھ پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی نگاہ ہے مجھے سعادت عظمی ورثہ میں ملی ہے یا شقاوت عظمی مجھے ورثہ میں ملی ہے۔جو کچھ اُسے ملے گا وہ اس کے متعلق یقین رکھے گا کہ یہ خدا کی طرف سے مجھے ملا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حسن کے جلوے دیکھے گا تو کوئی حجاب بیچ میں نہیں ہو گا۔حجاب جو ہیں وہ دور ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کو