سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 152
152 سبیل الرشاد جلد دوم کوئی مخلوق دیکھ تو نہیں سکتی لیکن یہ حجاب اس رنگ میں دور ہو جائیں گے اور اس طور پر اور اس حد تک دور ہو جائیں گے کہ کوئی شبہ دل میں باقی نہیں رہے گا کہ جو دور سے بھی حُسن کی کرنیں میرے احساس تک پہنچ رہی ہیں وہ حسن اللہ تعالیٰ کی ذات کا ہے ایک ذرہ بھر اس میں اشتباہ نہیں لیکن اس دنیا میں بھی محدود طور پر اللہ تعالیٰ کی اس مالکیت کے جلوے انسان دیکھتا ہے۔وہ لوگ جو فنا فی اللہ ہو جاتے ہیں یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا رنگ پورے طور پر اپنے اخلاق میں ظاہر کرتے ہیں اور اللہ کے لئے ایک موت اسی دنیا میں اپنے پر وارد کر کے اپنے رب کریم سے ایک حقیقی اور نئی زندگی حاصل کرتے ہیں وہ اس اسباب کی دنیا میں بھی کشوف اور دوسرے روحانی تجربات میں اس دنیا کی جھلک دیکھ پاتے ہیں جس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا حسن روشن ہو کر سامنے آئے گا اور انسان کے دل سے ہر قسم کے شک اور شبہ کو دور کر دے گا۔خدا تعالیٰ کے یہ بندے مالکیت باری تعالیٰ کے جلوے اس دنیا میں دیکھتے ہیں۔ہر ایک نہیں دیکھ سکتا۔امت محمدیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان روحانی کے طفیل ہزاروں لاکھوں انسانوں نے اس فنا کے مقام کو حاصل کیا جو بقا کے بے شمار جلوے اپنے اندر رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو اس رنگ میں دیکھا کہ کوئی شک اور شبہ ان کے دل میں نہیں رہا کہ یہ لذت اور سرور جو مجھے مل رہا ہے اس کا منبع اور سر چشمہ سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں۔اس یقین کامل کے نتیجہ میں اگر دنیا نے ایسے لوگوں کو آریوں سے چیر نا چاہا تب بھی ان کے دل میں کوئی شک اور شبہ پیدا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا تم اپنی مادی آری سے میرے مادی جسم کو چیر دو۔لیکن وہ لذت اور سرور روحانی جو میرے رب نے مجھے عطا کیا ہے وہ یہ لوہے کی آریاں مجھ سے چھین نہیں سکتیں۔آریاں ان پر چل رہی تھیں اور وہ لذت اور سرور کے سمندر میں نہا ر ہے تھے۔کسی کے لئے آگ جلائی گئی تا اس آگ میں اسے جلا کر راکھ کر دیا جائے اور جس کو اس آگ میں پھینکا جا رہا تھا اس کے دل کے خیالات یہ تھے کہ میرے رب نے محض اپنے فضل سے مجھ سے پیار کیا ہے اور میرے کان میں بڑے پیار سے مجھے کہا ہے کہ اس آگ سے مجھے مت ڈراؤ۔یہ آگ تو میری بلکہ میرے غلاموں کی بھی غلام ہے۔یہ سرور اور لذت ہر احمدی کو بھی حاصل نہیں۔لیکن احمد یوں میں ہزاروں ہیں (اب تو شاید لاکھوں ہوں ) جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عظیم روحانی جدو جہد سے جس کے نتیجہ میں آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم روحانی جد و جہد سے جس کے نتیجہ میں آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں اس طرح گم ہوئے کہ خدا نے دنیا کو کہا کہ اس میں اور اُس میں اب کوئی فرق نہیں رہا۔ان کے طفیل ہم نے اس مقام کو حاصل کیا ہے لیکن