سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 146
146 سبیل الرشاد جلد دوم ہر قسم کے عیبوں اور نقائص سے پاک اور منزہ ہوں۔ان صفات میں سے بعض صفات ائم الصفات کہلاتی ہیں اور بعض وہ صفات ہیں جو اُم الصفات کے دائرہ کے اندر کسی نہ کسی صفت سے تعلق رکھتے ہوئے انسان پر اپنا جلوہ دکھاتی ہیں۔ام الصفات قرآن کریم کے بیان کے مطابق چار ہیں جن کا ذکر سورۃ فاتحہ میں آیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے، وہ رحمان ہے ، وہ رحیم ہے، وہ مالک یوم الدین ہے۔رب العالمین کا یہ مفہوم قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے کہ اس نے ہر مخلوق کو پیدا کیا اور اس کو وہ مادی وجود دیا جو ہمیں نظر آتا ہے۔گھوڑے کو بھی اس نے پیدا کیا۔سور کو بھی اس نے پیدا کیا ، درختوں کو بھی اس نے پیدا کیا ، جمادات کو بھی اس نے پیدا کیا۔فرشتوں کو بھی اس نے پیدا کیا۔زمین کے ذرہ ذرہ کا وہ خالق یعنی پیدا کرنے والا ہے اور رب العالمین کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ وہ صرف پیدا کرنے والا ہی نہیں بلکہ وہ اپنی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے اور اس پرورش کے لئے جن سامانوں کی ضرورت تھی ان کا متکفل وہ خود ہے۔ساری قو تیں اس نے مخلوق کو اس کے مناسب حال عطا کیں۔گھوڑے کو جسم کی خوبصورتی ، اس کی چال کی خوبصورتی اور تیز رفتاری کی خوبصورتی عطا کی اور ایک درخت کو اپنی جگہ پر قائم رہتے ہوئے انسان کو شیریں پھل کھلانے کا حسن دیا۔ہر ایک مخلوق کو وہ دیا جیسا وہ بنانا چاہتا تھا۔انسان کو اللہ ، رب العالمین نے وہ تمام قو تیں اور صلاحیتیں اور قابلیتیں اور استعداد میں عطا کیں جن سے وہ صحیح طور پر کام لے کر اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا مظہر بن سکتا ہے۔جتنی بھی انسانی قوتیں یا صلاحیتیں ہیں وہ اس کو اس لئے دی گئی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنے۔تیسرے معنی رب العالمین کے یہ ہیں کہ اس نے صرف پیدا ہی نہیں کیا۔اس نے صرف نشو ونما کے سامان ہی پیدا نہیں کئے بلکہ اگر اس کی ربوبیت اس عالمین سے ایک لمحہ کے لئے بھی معدوم ہو جائے تو وہ فنا ہو جائیں۔ہر چیز کا وہی سہارا ہے کوئی ذرہ اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس کی ربوبیت کا جلوہ ہمیشہ، بغیر کسی وقفہ کے ، لگا تار اور مسلسل اس پر جلوہ فگن نہ رہے۔اس کو ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ انسان کو ایسے نظارے دکھاتا ہے کہ ایک سیکنڈ کے لئے اس کی ربوبیت کا تعلق مخلوق سے نہیں رہتا اور مخلوق فنا ہو جاتی ہے۔کبھی متکبر انسان نے شام کے وقت اپنے باغ کا جائزہ لیا اور خوش ہوا کہ اس کی محنت کا شمر بڑا اچھا نکلا ہے ، کل صبح ہم اکٹھے ہوں گے اور اس پھل کو توڑیں گے، انہوں نے مشورے کئے کہ ہم ان لوگوں کو جن کے حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں ان کے حقوق ادا نہیں کریں گے اور ایسا انتظام کریں