سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 132
سبیل الرشاد جلد دوم 132 ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔ابھی تکبیر نہیں ہوئی تھی کہ ایک دیہاتی (بد و) آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عظمت دی تھی اور آپ کا جو مقام تھا جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس لحاظ سے آپ سے انتہائی عزت و احترام سے پیش آنا چاہئے لیکن اُس کی ابھی اتنی تربیت نہیں ہوئی تھی۔وہ آیا اور اس وقت جبکہ آپ نماز پڑھانے لگے تھے ، آپ کا دامن پکڑ کر کہنے لگا میرا ذرا سا کام رہ گیا ہے۔ایسا نہ ہو کہ میں بھول جاؤں۔پہلے اس کو کر دو ( معلوم ہوتا ہے پہلے کر وائے تھے ) آپ اس کے ساتھ فوراً مسجد سے باہر نکل آئے اور اس کا کام انجام بھی اس نے کچھ کام کہ دے کر پھر نماز ادا کی۔طائف کے کفار جنہوں نے مکی زندگی میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے انتہائی طور پر ظالمانہ سلوک کیا تھا۔دشمنی کا کوئی ایسا موقع ان کو نہیں ملا کہ انہوں نے آپ کی دشمنی نہ کی ہو۔انہوں نے آپ پر پتھراؤ کر کے آپ کے جسم کو بھی زخمی کیا۔آپ کو گالیاں دی گئیں۔شہر کے او باش آپ کے پیچھے لگائے گئے۔دنیوی نقطہ نگاہ سے جو ذلت کے سامان پیدا کئے جا سکتے تھے وہ انہوں نے اپنی طرف سے کئے تھے۔خدا کا کرنا کیا ہوا ہے کہ ۹ھ میں اسی طائف کا ایک وفد آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں اُتارا اور بہ نفس نفیس ان کی مہمانی کے فرائض انجام دیئے۔پس یہ وہ محسن اعظم ہے جو بطور آقا کے ہمیں ملا ہے اور جس کے متعلق ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ اس کے ہر اسوہ کی پیروی کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیا تو اس کے دو پہلو ہیں۔ایک اس تعلیم کے مطابق زندگیاں گزارنا جو کامل اور مکمل کتاب قرآن مجید نے دی ہے اور دوسرے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ کی رُو سے آپ کی اتباع میں زندگی گزارنا کیونکہ آپ نے اس کامل اور مکمل تعلیم پر جس رنگ میں اپنی زندگی میں عمل کیا ہے اس کے مطابق اس کے معنی سمجھنا اور اپنی زندگی گزارنا ضروری ہے۔یہ خدمت کا جذ بہ ہر اس شخص کے دل میں پیدا ہونا چاہئے جس دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔یہ خدمت جو ہے یتیم کی مسکین کی ، انجان کی ، ان پڑھ کی اور جاہل کی جو آپ کے متعلق آداب سے ابوداؤ د کتاب الادب و بخاری کتاب الصلواة مختصراً بحوالہ سیرۃ النبی جلد دوم ۳۴۳ مسلم و ابوداؤ د بحوالہ سیرت النبی جلد دوم صفحه ۳۴۲ 3 سورۃ الاحزاب : ۲۲