سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 97
97 سبیل الرشاد جلد دوم خلافت اسلامی کا سلسلہ اپنی ترقی اور تنزل یا اپنی جلالی اور جمالی حالت کی رُو سے خلافت اسرائیلی سے بکلی مطابق و مشابه و مماثل ہو گا اور یہ بھی بتلا دیا کہ نبی عربی امی ، مثیل موسی ہے تو اس ضمن میں قطعی اور یقینی طور پر جتلایا گیا کہ جیسے اسلام میں سر دفتر الہی خلیفوں کا مثیل موسی ہے جو اس سلسلہ اسلامیہ کا سپہ سالار اور بادشاہ اور تخت عزت کے اول درجے پر بیٹھنے والا اور تمام کا مصدر اور اپنی رُوحانی اولاد کا مورث اعلیٰ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ایسا ہی اس سلسلہ کا خاتم با عتبار نسبتِ تامہ وہ مسیح ابن مریم ہے جو اس اُمت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیحی صفات سے رنگین ہو گیا ہے۔اسی مضمون کو بیان فرماتے ہوئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ خلافت میں اول درجہ کا مقام رکھتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنا نا چاہتا ہوں تو خلیفہ اللہ صحیح معنی میں اور نیچے اور کامل طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات ہے اور کسی کی نہیں۔اس لئے آپ کو خلافت عظمی حاصل ہے اور اسی لئے آپ ہی مجد داعظم ہیں۔مجد داعظم سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی نہیں۔لیکچر سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجد داعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اور آپ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔ساری دُنیا کو تاریکی اور ظلمت سے نکال کر ٹور کی طرف لانے کا کام سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی نے نہیں کیا۔پہلے انبیا ء اپنے اپنے زمانہ اور اپنی اپنی قوموں کی طرف مبعوث ہوئے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ نے انہیں تو فیق دی اور ان قوموں کو بھی جن کی طرف وہ مبعوث ہوئے تھے تو فیق دی ایک محدود وقت اور زمانہ میں ایک خاص قوم کو انہوں نے ظلمات شیطانی سے نکالا اور ان کی استعداد کے مطابق انوار ربانی سے منور کیا مگر ایک ہی شخص دنیا میں پیدا ہوا ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم جو ساری دُنیا کی طرف مبعوث ہوا اور اب قیامت تک کے لئے جو مجد دیتِ عظمی کے مقام پر قائم اور فائز رہے گا اور ساری دُنیا کو تاریکی اور ظلمت سے نکال کر اللہ تعالیٰ ازالہ اوہام از اله او ہم طبع اول صفحہ ۶۶۸-۶۷۳، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۰-۴۶۳ لیکچر سیالکوٹ صفحه ۴ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰۶