سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 480
10 اور توقع رکھتا ہوں کہ وہ مجلس انصار اللہ سے پورا پورا تعاون کریں گی اور وہ مقامات ، جماعتیں یا اضلاع جہاں قرآن کریم کی تعلیم کا کام جماعتی نظام کے سپر د کیا گیا ہے وہاں جہاں تک قرآن کریم پڑھانے کا سوال ہے خدام الاحمد یہ یا انصار اللہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے کیونکہ یہ کام ان کے سپرد کیا ہی نہیں گیا۔تمام دوستوں کو انصار میں سے ہوں یا خدام میں سے، جوان ہوں یا بڑی عمر کے یہ بنیادی بات یاد رکھنی چاہئے کہ احمدی ہونے اور انصار یا خدام کے رکن ہونے میں بڑا فرق ہے۔ایک احمدی پر اللہ تعالیٰ نے بڑی اہم اور بڑی وسیع ذمہ داری ڈالی ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں حضور کے منشاء اور ارشاد کے ماتحت اور پھر بعد میں حضور کے خلفاء کے منشاء اور ارشاد کے ماتحت تمام دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو سکیم میں تیار کی جائیں ہر احمدی اپنا سب کچھ قربان کر کے ان سکیموں کو کامیاب کرنے کی کوشش کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ جو آسمان پر ہو چکا ہے کہ وہ اسلام کو اس زمانہ میں جو سیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے گا۔اس فیصلے کا نفوذ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جسے ہماری کوشش جذب کرے اس دنیا میں بھی ہمیں جلد تر نظر آ جائے۔یہ الہی فیصلہ جو آسمان پر ہو چکا ہے زمین پر نافذ ہو کر رہے گا۔دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی !!! لیکن اس راہ میں انتہائی قربانی پیش کرنا ہمارا فرض ہے۔یہ کام جو ایک احمدی کے سپرد ہے احمدی نوجوان کے بھی ، احمدی بوڑھے کے بھی ، احمدی مرد کے بھی ، احمدی عورت کے بھی اور احمدی بچے کے بھی !!! اس وسیع کام کا ایک حصہ جو شاید اس کام کا ہزارواں حصہ بھی نہ ہو۔مجالس خدام الاحمدیہ، انصار اللہ، لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ کے سپرد کیا گیا ہے تا کہ ان مختلف گروہوں کی تربیت ایسے رنگ میں کی جاسکے۔یا ان کی تربیت ایسے طور پر قائم رکھی جاسکے کہ وہ اس ذمہ داری کو کما حقہ ادا کرسکیں جو ایک احمدی کی حیثیت سے ان کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔پس مجلس خدام الاحمدیہ یا مجلس انصار اللہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے تم پر جوذ مہ داری عائد ہوتی ہے وہ بہت ہی محدود ہے۔اس محدود ذمہ داری کو ٹھیک طرح نباہ لینے کے بعد اگر کوئی رکن خوش ہو جاتا ہے کہ جتنی ذمہ داری بھی بحیثیت احمدی ہونے کے اس پر ڈالی گئی تھی وہ اس نے پوری کر دی تو وہ غلطی خوردہ ہے۔کیونکہ جو ذمہ داری اس پر ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے ڈالی گئی ہے یہ ذمہ داری اس کے مقابل پر شاید ہزارواں حصہ بھی نہیں۔اس پر خوش ہو کے بیٹھ جانا بڑی خطر ناک بات ہے۔یہ ہمارے لئے سوچ اور فکر کا مقام ہے اور اس کیلئے خطرہ کا مقام ہے اسی طرح اگر جوانی کے جوش میں یا اپنے تجربہ کے زعم میں وہ اپنے حدود سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو بھی وہ اچھا کام نہیں کرتا۔جو جماعتی نظام کی ذمہ داری ہے وہ جماعتی نظام نے ہی ادا کرنی ہے اور تم نے جماعت کا ایک فرد