سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 29 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 29

سبیل الرشاد جلد دوم آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حوالے 29 آپ کو پڑھ کر سناؤں گا۔کہ آپ نے کس رنگ میں ان چیزوں پر کتنی روشنی ڈالی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔چنانچہ بلغم کو الہامات ہوتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کہ لَوْ شِتُنَا لَرَفَعَنه ثابت ہوتا ہے کہ اس کا رفع نہیں ہوا تھا۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور میں وہ کوئی برگزیدہ اور پسندیدہ بندہ ابھی تک نہیں بنا تھا۔یہاں تک کہ وہ گر گیا۔ان الہامات وغیرہ سے انسان کچھ بن نہیں سکتا۔انسان خدا کا بن نہیں سکتا جب تک کہ ہزاروں موتیں اُس پر نہ آویں اور بیضہ بشریت سے وہ نکل نہ آئے۔“ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اردو ادب میں ایک نئے محاورہ بیضہ بشریت سے نکل آنا کا اضافہ کیا ہے۔اور یہ بڑا ہی لطیف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انسان کی بشریت کو ایک انڈے سے مشابہ قرار دیا ہے۔اور فنافی اللہ کے مقام کو وہ مقام بتایا ہے۔جب انڈے میں سے بچہ باہر نکل آتا ہے۔پھر اس خول کے ساتھ اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔وہ اس میں واپس جا ہی نہیں سکتا۔پس جب تک انسان کی روحانیت اُس مقام تک نہ پہنچ جائے کہ اس کا گند اور گناہ کی طرف ارتداد اور واپس لوٹ جانا عملاً نا ممکن ہو جائے اُس وقت تک وہ حقیقی معنی میں خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں بنتا، تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ الہام رؤیا اور کشوف کوئی چیز نہیں۔ان پر فخر اور ناز نہیں کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں یہ بتایا ہے کہ الہام وغیرہ سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ انسان واقعہ میں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایسا بن گیا ہے کہ اس کا انجام بخیر ہو۔پس ایک عقلمند کے لئے ہر وقت مقام خوف ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر انسان کس طرح اس ابتلاء اور امتحان سے حفاظت اور کامیابی کے ساتھ نکل سکتا ہے۔اس تعلق میں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دو اصولی باتیں بیان کی ہیں۔ایک یہ کہ اپنے آپ کو یا اپنوں کو کبھی بھی نیک نہ سمجھو اور نہ نیک قراردو - لا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ 1 احکام ۳۰ را پریل ۱۹۰۱ء بحوالہ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول، صفحه ۲۸۶ سورة النجم آیت ۳