سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 458 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 458

458 سبیل الرشاد جلد دوم گوشت ہے، مرغی اور پرندوں کا گوشت ہے اور دودھ میں پروٹین (PROTEIN) ہیں۔اس سے پھر آگے پنیر وغیرہ ملتا ہے۔ایک چکر میں نے ایک رسالے میں بنا ہوا دیکھا جس نے پروٹین کو اتنا حصہ دے کے چکر کا اور پھر آگے اس میں تقسیم کی ہوئی تھی کہ اصل BALANCE تب قائم ہوتا ہے کہ جب اس طرح ہم اپنی پروٹین میں پروٹین کے اندر بھی ایک بیلنس BALANCE قائم کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ جو شخص گوشت ہی کھاتا رہے گا اس کے اخلاق کے اوپر اثر پڑے گا۔ان کی اس ریسرچ نے ثابت کیا جو شخص گوشت ہی کھاتا رہے گا اس کے اخلاق پر اثر پڑے گا۔اور یہ ہمارے ہاں ہے کہ جو مثلاً گائے اور بھینسے کا گوشت کھاتے رہتے ہیں ہمیشہ ان کے اخلاق کے اوپر ایک خاص قسم کا اثر پڑتا ہے۔تو یہ میزان جو ہے تضاد نہیں ، تو ہم ایک منفی بات کہہ رہے تھے نا۔لیکن مثبت چیز یہ ہے کہ اس عالمین میں میزان ہے۔تو ازن ایک قائم کیا گیا ہے۔ہر چیز دوسرے کی مدد کر رہی ہے اس کی مد اور معاون ہے یعنی حصول مقصد کے لئے ممد اور معاون ہے۔کائنات کی پیدائش کی غرض انسان کی خدمت کرنا تھا نا تو ہر چیز دوسرے کی مد اور معاون ہے انسان کی خدمت کرنے میں۔ہر چیز دوسرے کو سہارا دیتی ہے یہ بھی میزان کے اندر ہے۔اب اتنے ستارے ہیں اور قرآن کریم نے کہا ہے وہ اپنے رستوں کے اوپر چل رہے ہیں۔ایک میزان قائم کر دی کہ اتنا فاصلہ رکھو تب زمین اپنا مقصد پورا کر سکتی ہے کہ انسان اس پر زندہ رہے۔انہوں نے ریسرچ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر یہ راستہ یہ جو فاصلہ ہے سورج اور زمین کا اگر اس میں فرق پڑ جائے، زیادہ قریب ہو جائے تو زمین جل جائے یعنی زندگی یہاں نہ رہ سکے۔زیادہ دور ہو جائے تو اتنی سردی ہو کہ زندگی نہ رہ سکے۔تو ایک خاص نظام کے ساتھ تو ازن جو ہے وہ قائم کیا گیا ہے، نسبت قائم کی گئی ہے اور اس کو قائم رکھا ہوا ہے خدا تعالیٰ نے۔عظیم ہستی ہے ہمارا خدا ہمارا رب کریم۔یہ جو میزان ہے (میں نے کہا نا تضاد نہیں، میزان ہے ) اس میزان میں ایک تصور ہے زوجین کا۔یہ اسی کا ایک حصہ ہے آگے۔زوجین کا مطلب یہ ہے کہ اس عالم میں وہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے والی ہیں۔ایک مؤثر ہے۔اثر پیدا کرتی ہے اور ایک چیز اثر قبول کرنے والی ہے۔ایک اور رنگ میں وہ مؤثر بن جاتی ہے لیکن بہر حال زوجین ہیں، اثر ڈالنے والی اور اثر قبول کرنے والی۔ہر چیز دوسرے کے اوپر اثر ڈال رہی ہے، اثر قبول کر رہی ہے۔یعنی مؤثر بھی ہے اور متاثر ہو نیوالی بھی ہے لیکن ایک نسبت ہے کلّی طور پر۔خدا تعالیٰ کی ذات ہر چیز پر اثر ڈالنے والی ہو اور کوئی مخلوق میں سے ایسی چیز