سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 439
439 سبیل الرشاد جلد دوم تھی۔ہر لڑائی میں ایک تازہ دم ایرانی فوج آئی ہے اور مسلمان وہی ہیں۔کچھ شہید ہو گئے۔کم ہوئے ، خدا نے بڑی حفاظت کی۔کچھ زخمی ہو گئے۔کم زخمی ہوئے خدا نے بڑی حفاظت کی۔مان لیتے ہیں۔لیکن سارے کے سارے تھکے ہوئے۔ہر تیسرے دن کے بعد ایک تازہ دم فوج کے ساتھ مقابلہ اور مقابلہ یہ تھا یہ جو میں نے چھوٹی سی مثال دی ہے آپ کو سمجھانے کے لئے کہ اٹھارہ ہزار کے مقابلہ میں کم و بیش اوسطاً اسی ہزار کے قریب فوج۔آٹھ گھنٹے کی لڑائی فرض کر لیتے ہیں۔ایک دن کی لڑائی ہوتی تھی نا شام کوختم کر دیتے تھے تو ہر دو گھنٹے کے بعد ایرانی فوج کا کمانڈر ان چیف اس فوج کو جو دو گھنٹے لڑ چکی ہے۔اس کو واپس بلا لیتا تھا۔اور اُن کی لائنز میں سے بالکل تازہ دم فوج ہر دو گھنٹے کے بعد آگے آ جاتی تھی۔چار دفعہ مسلمان فوج نے تازہ دم فوج سے صبح سے شام تک لڑائی کی اور ایرانی فوج نے دو دو گھنٹے تلوار میں چلائیں اور مسلمانوں نے آٹھ گھنٹے تلوار چلائی۔یہ کمال ہو گیا۔جسمانی طاقت اور مہارت کا۔اب یہ حال ہے کہ مسلمان کہتے ہیں جی ہم قرآن نہیں پڑھتے۔تو پھر مہارت کیسے پیدا ہو گی۔اور دعا ئیں نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ موقع پر آپ کو جواب کیسے سمجھائے گا۔مہارت کا یہ حال کہ پھر خالد بن ولید ہی چلے گئے قیصر کی فوجوں کے مقابلہ میں تو دمشق کا انہوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا۔عیسائی محاصرہ سے تنگ آ گئے تو اُن کے جرنیل نے کہا ان کو ڈرانا چاہئے۔اور میں آپ کو بتاتا ہوں مسلمان ڈرا نہیں کرتے۔آپ یہ سبق یاد رکھیں۔مسلمان کبھی ڈرا نہیں کرتا کیونکہ حکم یہ ہے فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِی اس زمانے میں بڑی چوڑی چوڑی فصیلیں ہوا کرتی تھیں۔انہوں نے نوجوان عیسائی لڑکیوں اور پادری صاحبان کی فوج ہتھیاروں سے لیس کر کے اور کئی ہزار کی تعداد میں رعب ڈالنے کے لئے فصیل پر کھڑا کر دیا۔خالد بن ولید کو خدا نے بڑی فراست دی تھی۔بڑا اخلاص دیا تھا۔انہوں نے کہا اچھا یہ تم میرے ساتھ تماشا کر رہے ہو۔انہوں نے اپنی فوج ذرا پیچھے ہٹائی اور تیر انداز یونٹ جو تھا اُن کو آگے بڑھایا۔اور اُن کو ان ہونا حکم دیا۔اُن کو کہا میں تمہیں حکم دیتا ہوں کمانڈر ان چیف کی حیثیت میں کہ یہ فوج جو سامنے کھڑی ہے۔ایک ہزار آدمیوں کی تیر چلا کے ان کی آنکھیں نکال دو۔اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں ایک ہزار آدمی کی آنکھ اُن تیر اندازوں نے نکال دی۔اور اُس سے اُن کی شکست ہوگئی کیونکہ وہ وہاں سے نیچے اُتر کے بھاگے ہیں۔اور وہ رعب ڈالنے کے لئے جمع ہوئے ہوئے تھے وہاں سے بھاگے ہیں سارا شہر Cross کر کے اُس دروازے تک پہنچے۔سارے شہر میں یہ منادی کرتے ہوئے کہ لوگو! مسلمانوں نے ہماری آنکھیں نکال دی ہیں اور یوں انہوں نے Surrender سرنڈر کر دیا۔یعنی جو منصوبہ بنایا گیا تھا۔رُعب ڈالنے کے لئے وہ اُلٹا اُن کے اوپر پڑا۔لیکن ایک ہزار آدمی کی آنکھ نکالنا جو اوپر چڑھا ہوا میرا اندازہ