سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 389 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 389

سبیل الرشاد جلد دوم 389 سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث حمد اللہتعالیٰ کا افتاحی خطاب (فرموده ۱/۲۶ خاء۱۳۵۸ هش ۲۶ را کتوبر۱۹۷۹ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز بیر بوہ ) سید نا وامامنا حضرت خلیفۃ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے۲۲ ویں سالانہ اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے مورخہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۷۹ ء کو جو خطاب فرمایا تھا۔اس کا متن ذیل میں افادہ احباب کے لئے درج کیا جاتا ہے۔لاؤڈ اسپیکر کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے حضور کا یہ خطاب مکرم مولوی عبد العزیز ویس صاحب مربی سلسلہ نے اونچی آواز میں احباب تک پہنچایا۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: انسانوں کو عادتیں بھی پڑ جاتی ہیں۔میں نے ساری عمر اس بات کا خیال رکھا کہ عادت نہ پڑے لیکن اب معلوم ہوا کہ لاؤڈ اسپیکر پر بات کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔اس سے قبل اس مجمع سے بھی بڑے مجمعوں میں بغیر لاؤڈ سپیکر کے میں تقریر کرتا رہا ہوں۔مگر اب بُری عادت پڑ چکی ہے اور ویس صاحب کی آواز کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِيْنَ کی حیثیت سے مبعوث ہوئے اور جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے۔آپ تمام بنی نوع انسان کی طرف نہ ختم ہونے والی رحمتوں کو ساتھ لئے بطور نبی کے مبعوث ہوئے۔اس لئے جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت نے انسان انسان میں کوئی امتیاز اور فرق نہیں کیا۔آپ سب کے لئے ہی رحمت، مومن و کافر کا یہاں سوال پیدا نہیں ہوتا۔جو تعلیم آپ لے کر آئے اُس کا ہر حکم ، امر ہو یا نہی۔مومن کے لئے بھی رحمت ہے اور کافر کے لئے بھی رحمت ہے۔جو احکام آپ لے کر آئے اُن میں سے اس وقت میں کچھ کہوں گا۔انسان کو عمل صالح کا حکم ہے یعنی جو کچھ بھی وہ کرے خدا تعالیٰ کی ہدایت اور تعلیم کی روشنی میں کرے اور اس تعلیم کی وسعت بہت بڑی ہے۔ہمارے اعمال ہماری زبان سے بھی تعلق رکھتے ہیں اور زبان سے تعلق رکھنے والے اعمال صالحہ