سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 362
سبیل الرشاد جلد دوم صدی میں اسلام دنیا پر غالب آ جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔362 یہ تو ہم نے پیشگوئیوں سے اندازہ لگایا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف انذاری پیشگوئیوں کے نتیجہ میں دعا اور صدقات کی ضرورت ہوتی ہے اور جو بشارتیں ہیں اُن کے لئے کچھ نہیں کرنا پڑتا۔یہ بات غلط ہے۔سب سے بڑی بشارتیں تو آدم سے لے کر آج تک حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تھیں۔آپ کے ماننے والوں نے پہلے دن سے لے کر آج تک اس حقیقت کو سمجھا اور اسی کے مطابق عملی جد و جہد بھی کی کہ جتنی بڑی بشارت ہوتی ہے اُتنی بڑی ذمہ داریاں بھی عائد کی جاتی ہیں۔پس وہ ذمہ داریاں جو اس وقت میں احباب جماعت کو بتا رہا ہوں، یہ ایک نسل پر نہیں پڑیں۔اگر یہ اگلے سو ڈیڑھ سو سال میں وقوعہ ہو جانا ہے۔انشاء اللہ اور جس کے نتیجہ میں دُنیا کی اکثریت اسلام کے اندر داخل ہو جائے گی تو یہ کئی نسلوں کا کام ہے۔یہ ایک نسل کا کام نہیں ہے۔اس لئے ہر بڑی نسل کا اور ہر زمانے کے انصار کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سنبھالیں اور اُن کو تیار کریں ذہنی طور پر اور اخلاقی طور پر اور رُوحانی طور پر کہ اس نقطہ نگاہ سے اُن پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ، وہ انہیں بشاشت قلب کے ساتھ اور مسکراتے چہروں کے ساتھ ادا کرنے والے بہنیں خواہ ساری دنیا ہی اکٹھی ہو کر اُن کے مقابلے پر کیوں نہ آ جائے۔انہوں نے قدم آگے ہی بڑھاتے چلے جانا ہے۔تب خدا تعالیٰ کی برکتوں کی جماعت وارث بن سکتی ہے۔اور انشاء اللہ بنے گی۔پس تربیت اولاد بڑی اہم ذمہ داری ہے۔اس کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔اس کے لئے ایک تو ہر باپ کو اپنے بچے کا دوست بننا چاہئے۔کئی باپ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کو ایسی خونخوار نظروں سے دیکھتے ہیں کہ وہ اُن کے سامنے بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔بیٹا تو ایسا ہونا چاہئے کہ بے تکلف ہر بات اپنے باپ سے کر دے ورنہ اس کی ذہنی اور اخلاقی نگرانی نہیں کی جاسکتی۔بہر حال یہ ذمہ داریاں ہیں جن کی میں احباب جماعت کو یاد دہانی کرا رہا ہوں۔اب میں اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْاَ نْفْسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ أُولَيكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَيْكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور کچی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا اپنے سورة البقره آیت ۱۵۶ تا ۱۵۸