سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 289 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 289

سبیل الرشاد جلد دوم 289 اسی طرح ماضی میں یعنی پچھلے چودہ سو سال میں ہر صدی میں جونئی اُلجھنیں پیدا ہوئیں اور اُن کو سلجھانے کے لئے خدا تعالیٰ کے مظہر بندوں کو خدا کی طرف سے قرآن کریم کی جو نئی سے نئی تفسیر سکھائی جاتی رہی ہے ، اُس کی آج بھی ضرورت ہے ، اس لئے کہ ان اُلجھنوں میں سے کچھ اُلجھنیں آج کی زندگی میں بھی پیدا ہو جاتی ہیں ، اُن کو قرآن کریم کی روشنی میں سلجھانے کے لئے کتاب مکنون کے اوراق سکھائے گئے تھے جواب کتاب مبین کے اوراق بن چکے ہیں اُن کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے۔اس لئے ہم میں سے ایک ایسا گروہ ضرور ہونا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کے مظہر بندوں کی بیان کردہ تفاسیر کو دیکھے اور اُس پر غور کرے۔یہ ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ مثلاً تین سو سال پہلے اسلام پر یہ اعتراض ہوا اور خدا کے فلاں مقرب ، محبوب اور مطہر بندہ نے خدا سے قرآن کریم کو سیکھ کر اس کا یہ جواب دیا تھا۔گویا زمانہ زمانہ میں اور ملک ملک میں بدلتے ہوئے حالات میں نئی سے نئی الجھنیں پیدا ہوتی رہیں جن کو ہر زمانہ میں اور ہر خطہ ارض میں خدا کے مظہر بندوں نے خدا سے علم حاصل کر کے سلجھانے کی جو کوشش کی اُس کی آج بھی ضرورت ہے کیونکہ وہ اُلجھنیں آج بھی پیدا ہو رہی ہیں۔انسانی زندگی کی ساری الجھنیں ماضی کا قصہ تو نہیں بن گئیں۔اُن کو قصہ پارینہ تو نہیں سمجھ لینا چاہئے۔اُن میں بعض خود کو دُ ہراتی رہتی ہیں۔اسلام پر پر انے اعتراضات کسی نہ کسی شکل میں کبھی نہ کبھی سامنے آ جاتے ہیں۔جیسا کہ یہ اعتراض دُہرایا جاتا رہا ہے کہ ان هذا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اگر یہ ایک پرانا اعتراض ہے جسے کفار مکہ نے بھی دُہرایا تھا۔لیکن کیا ہم اس کا جواب نہیں ڈ ہرا ئیں گے۔اس لئے گو یہ اعتراض پہلے انبیاء علیہم السلام پر بھی کیا گیا تھا لیکن امت محمدیہ پر پہلی صدی میں جو اعتراض ہوئے اُن میں سے بعض ایسے ہیں جو آج تک دُہرائے جار ہے ہیں۔پہلی صدی میں جو اُلجھنیں پیدا ہوئیں اُن میں سے بعض ہماری زندگی میں آج بھی پیدا ہورہی ہیں۔اس لئے اُن کا جوصل پہلوں کو سکھایا گیا تھا اس کا ہمیں بھی علم ہونا چاہئے۔علاوہ ازیں اسلام پر کئے جانے والے اعتراضات کو دُور کرنے کے لئے اور پیش آمدہ الجھنوں کو سلجھانے کے لئے اس زمانہ میں حضرت مہدی معہود علیہ السلام نے ہمارے ہاتھ میں بنیا دی طور پر دو قسم کی تفسیر دی ہے ایک تفصیلی تفسیر ہے اور دوسری اجمالی۔یعنی ایک وہ تفسیر ہے جس میں ہر چیز کو اس کی اصل شکل میں تجزیہ کر کے اُسے نمایاں کر دیا گیا ہے، اور دوسری قسم کی تفسیر میں اجمالاً ذکر کر دیا گیا ہے۔مثلاً ایک آیت ہوتی ہے اس کے متعلق ایک دو فقرے میں آپ نے مجملاً ذکر کر دیا ہے۔چنانچہ بعض دفعہ میں سورۃ الانعام آیت : ۲۶