سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 280 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 280

سبیل الرشاد جلد دوم 280 لئے کہ اس لفظ کو عربی زبان میں اِن ان معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن جب تفسیر بیان کی تو صرف چھ سات معنوں کو لیا۔یعنی حل لغات میں تو گیارہ معنے دے دیئے لیکن تفسیر میں کچھ معنے چھوڑ دیئے۔ایک دفعہ میں ایک مضمون پر غور کر رہا تھا۔اس سلسلہ میں یہ آیہ کریمہ بھی زیر غور آئی جس میں زکی کا لفظ استعمال ہوا ہے اور جس کی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر بیان فرمائی ہے۔چنانچہ میں نے جب یہ تفسیر پڑھی تو مجھے بڑی دلچسپی پیدا ہوئی۔یہ دیکھ کر کہ گیارہ معنے حل لغات میں دے دیئے ہیں۔لیکن آپ نے تفسیر کرتے وقت فائدہ اٹھایا صرف چھ سات معنوں سے۔چنانچہ جب میں نے اس پر غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے یہ سکھایا کہ لغوی لحاظ سے جو معنے باقی رہ گئے تھے اگر اُن پر بنیا درکھ کر تفسیر کی جاتی تو یہ ایک بہت لمبا اقتصادی مضمون بن جاتا لیکن چونکہ پہلے ہی تفسیر لمبی ہو رہی تھی۔اس لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ان معانی کی تفسیر کو چھوڑ دیا لیکن حلِ لغات میں ان کو درج کر دیا۔چنانچہ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ آپ کو ان معنوں کی تفسیر بھی سکھائی گئی تھی لیکن جگہ کی قلت کی وجہ سے آپ نے چھوڑ دی۔پھر اللہ تعالیٰ نے نئے سرے سے ان کی تفسیر مجھے سکھائی اور میں نے اقتصادی مضامین کے سلسلہ میں استعمال کیا۔نہ صرف یہ بلکہ جو لغوی معنے نہیں دیئے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اُن میں سے بھی ایک معنی کی تفسیر سکھا دی۔پس اگر تر جمہ میں ایک شخص اپنے مضمون کے لحاظ سے ترجمہ کرتے ہوئے ذکی کے ایک معنے لیتا ہے۔ایک دوسرا متر جم کوئی دوسرے معنے لیتا ہے اور نئی تفسیر بیان کرتا ہے تو یہ اختلاف ہے مگر دونوں معانی اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں۔زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ دو مختلف تفاسیر کی بنیا دان دو معانی پر رکھی گئی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص ایک ایسا ترجمہ کرے جو لغت کے لحاظ سے درست نہ ہو تو یہ غلط ترجمہ ہے۔اس سے قرآن کریم کی معنوی حیثیت پر حرف آتا ہے۔یہ صحیح ہے۔لیکن ہمارے ترجمہ اور تفسیر کے متعلق کوئی آدمی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ان کی بنیا دلغوی معنوں کے خلاف اور ان سے متضاد ہے۔یعنی یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے کسی آیت یا لفظ کے وہ معنے دے دیئے ہیں جن کی عربی لغت متحمل نہیں۔جہاں تک تفسیر کا تعلق ہے میں یہ کئی بار بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم ، کتاب مبین بھی ہے اور کتاب مکنون بھی ہے۔کتاب مکنون سے تفسیر قرآنی کے وہ بطون مراد ہیں جن میں اسرار و رموز یا چھپے ہوئے مضامین پائے جاتے ہیں۔جن کا علم اللہ تعالیٰ کے مظہر بندوں کو دیا جاتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا