سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 269
269 سبیل الرشاد جلد دوم تک ہمیں کرنے چاہئیں۔چونکہ کوئی کمزوری بھی کسی جہت اور پہلو سے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔اور اس کے ساتھ ہی اطفال الاحمدیہ کے نظام میں بھی ایک ترمیم کا اعلان کرتا ہوں۔اطفال الاحمدیہ کی بھی دو صفیں ہوں گی۔ایک طفل کی عمر غالبا ۷ سال ہے۔سات سال سے لے کر بارہ سال تک اُن کی صف دوم ہو گی۔اور تیرہ چودہ اور پندرہ سال، ان تین سال کی عمر کے اطفال کی صف اوّل ہو گی۔کیونکہ یہ ایسی عمر ہے جس میں (سارے بچے تو نہیں ) بعض بچے جسمانی مشقت اتنی ہی اُٹھا سکتے ہیں جتنی خدام اُٹھا سکتے ہیں۔مثلاً جو سائیکل سوار قافلہ نبی سر روڈ (سندھ) سے آیا وہ قافلہ کافی بڑا تھا۔اُس میں دو اطفال تھے۔جو ۹۰ یا سومیل روزانہ طے کر کے وہاں سے یہاں پہنچے۔اور اس قسم کے ہزاروں اطفال ہو سکتے ہیں۔اس کی مثال پہلے زمانہ میں ملتی ہے۔ایک جنگ میں اُس زمانہ کے دو اطفال فوج میں شامل تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جائزہ لیا تو فرمایا کہ تم دونوں جنگ میں شامل نہیں ہو سکتے۔اُنہوں نے کہا ہم نے شامل ہونا ہے۔آپ نے کوئی امتحان لیا۔اس میں ایک طفل کامیاب ہو گیا۔آپ نے اُسے شامل کر لیا۔تو دوسرے نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے بھی شامل ہونا ہے۔آپ نے کہا تم چھوٹے ہو تم شامل نہیں ہو سکتے۔اُس نے کہا میری اس سے گشتی کرا لیں۔اس طرح وہ بھی شامل ہو گیا۔پس اس قسم کے اطفال بھی ہیں جو مشقت برداشت کرنے میں بہت باہمت ہیں۔سائیکل چلانے کی مہم بھی تربیت کا ایک حصہ ہے۔اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ان میں سے بعض ، سمجھداروں کے سامنے آگئے اور انہیں معلوم ہو گیا۔پس یہ مہم بے فائدہ اور بغیر مصلحت کے نہیں تھی۔لیکن جیسا کہ میں نے انگلستان میں بھی کہا تھا کہ غلیلیں رکھو۔اور مصلحت نہ پوچھو۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الامامُ جُنَّةٌ يُقْتَلُ مِن وَرَائِهِ۔جو امام کہتا ہے اُس کو ماننا ہے۔اُس کے پیچھے کھڑے ہو کر تم نے لڑنا ہے۔مصلحتیں نہیں پوچھنی۔اس میں یہ بھی اشارہ ہے۔بس مصلحتیں نہ پوچھیں۔میں اب یہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے انصار میں سے ہیں ہزار سائیکل سوار چاہئیں۔میں نے کہا ہے کہ مجھے ایک لاکھ احمدی سائیکل سوار چاہئیں۔میں ان کو احمدی سائیکل کہتا ہوں۔جس سائیکل پر احمدی سوار ہے وہ سائیکل بھی احمدی ہے۔اُس کی نیت وہی ہے نا ! جو اُس کے سوار کی ہے۔پس مجھے انصار اللہ میں سے ۲۰ ہزار سائیکل چاہئیں اور اطفال میں سے دس ہزار سائیکل چاہئیں۔اور ستر ہزار خدام میں سے چاہئیں۔اس مرتبہ یہ پہلا تجربہ تھا۔اور قریباً سات سوسائیکل سوار ربوہ سے باہر کے خدام اپنے اجتماع میں شامل ہوئے۔ہم نے جو یہاں جائزہ لیا ہوا ہے اُس کے مطابق