سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 241
سبیل الرشاد جلد دوم 241 بچا ہوا مال تقسیم کر دے۔غرض پیسے خرچ کرنے پر پابندی لگا دی۔پھر اسی طرح مثلاً اوقات ہیں فرمایا وقار عمل کرو۔خدمت خلق کرو۔باہر نکلو لوگوں کو دیکھو ان سے دوستی پیدا کرو۔وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کرو۔کوئی فوت ہو جائے تو اس کے ہاں تعزیت کے لئے پہنچو۔اس کے پسماندگان کی دلجوئی کرو۔اپنے بھائی کے لئے مغفرت کی دعا کرو۔غیروں کے لئے ہدایت پانے کی دعا کرو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا ہے ( مجھے حوالہ تو یاد نہیں مفہوم یاد ہے۔آپ نے فرمایا ہے ) سر سے لے کر پاؤں تک اسلامی احکام تمہارے اوپر حاکم بنے ہوئے ہیں۔زمانہ کو لے لیجئے اس کے لحاظ سے۔مثلاً بچپن کے متعلق علیحدہ احکام دیئے گئے ہیں ، جوانی کے متعلق علیحدہ احکام دیئے گئے ہیں۔بڑھاپے کے متعلق علیحدہ احکام نازل کئے گئے ہیں اور پھر انسان کے بحیثیت انسان ہونے کے اس کی ساری زندگی کے متعلق احکام دیئے گئے ہیں۔صبح سے لے کر شام اور شام سے لے کر صبح تک کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ہر چیز کو احکام کے اندر جکڑ دیا یہاں تک کہ تمہاری نیند پر بھی حکم لگا دیا اور فرمایا۔وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ۔ہم نے رات کو تمہارے لئے سکینت اور طاقت کو از سر نو بحال کرنے کے سامان پیدا کئے۔وہ دیوانہ شخص جو یہ چاہتا ہے کہ میں دن کو روزے رکھ کر اور رات کو اپنا سر رشتی سے باندھ کر ساری رات خدا کا نام جپ کر خدا کو راضی کرلوں گا۔خدا نے فرمایا نہیں کوئی انسان مجھے اس طرح راضی نہیں کر سکتا۔میری بات مانو گے تو مجھے پاؤ گے۔مجھے پانے کی اپنی طرف سے ہدایات بنا کر پیش کرو گے تو پھر میں تمہیں نہیں ملوں گا۔کیونکہ میں تمہیں اپنا بندہ بنانا چاہتا ہوں۔تم میری مرضی کے مطابق کام کرو گے تو میں اپنی ساری قدرتوں کے جلوے تم پر ظاہر کر دوں گا۔لیکن اگر تم اپنی مرضی کے مطابق ایک خدا بنا کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو گے تو تمہارا دماغ تو کسی خدا کی تخلیق نہیں کر سکتا۔اس واسطے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔بہر حال اسلام نے ایک مسلمان اور اس کی زندگی پر اپنے گونا گوں احکام عائد کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم نے سات سو سے زیادہ احکام تمہارے لئے دیئے ہیں۔اگر تم دیدہ و دانستہ اور بغاوت کرتے ہوئے اُن میں سے ایک حکم کی بھی خلاف ورزی کرو گے تو خدا تعالیٰ کے قہر کی انگلیاں تمہاری گردن پر ہوں گی۔اور تمہیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔دراصل یہ قیود اور یہ پابندیاں انسان کی فطرت اور اس کی روح کو ارتقائی مدارج اور بلندیاں طے کرنے کے لئے عائد کی گئی ہیں۔اب ایک منافق کسی نہ کسی طریق سے اسلام میں شامل تو ہو جاتا ہے لیکن وہ ان قیود اور ان پابندیوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔اس کی عجیب قابل رحم حالت ہوتی ہے۔وہ اسلام کو مان بھی لیتا ہے