سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 229 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 229

229 سبیل الرشاد جلد دوم نہیں ، یا تیرا قبیلہ ہی نہیں ، تیری برادری یا دوستوں کا حلقہ ہی نہیں ، تیرا ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے عوام ہیں جن کی خدمت کرنے کے لئے تمہیں پیدا کیا ہے۔ان کی سرحدوں تک تیری کوشش مؤثر ہونی چاہئے۔یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ علم کے میدان میں کوئی کوشش نہ کی اور بے مقصد ہنگاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیا۔پھر جب ہم دنیا کے میدان میں نگاہ ڈالتے ہیں تو خالی اس چیز کی ہی ضرورت نہیں بلکہ دوسرے نمبر پر بھی نہیں یعنی مادی اشیاء اور علم کے علاوہ کچھ اور علم بھی ہمیں حاصل کرنا چاہئے۔مثلاً ان کو اچھے اخلاق کی ضرورت ہے۔اب ان کو اچھے اخلاق سکھانے کے لئے وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ کی روسے پہلے خود اپنے اخلاق اچھے بنانے پڑیں گے۔اگر اپنے اخلاق اچھے نہیں بنائے تو گویا حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الایمان کے جذبہ کے خلاف کام کیا اور اگر اپنے اخلاق اچھے نہیں بنائے یعنی ایسے اخلاق جو ساری دنیا کے اخلاق پر اثر انداز ہونے والے ہوں تو گویا ہم أُخْرِجَتْ لِلنَّاس کی بشارت کے خلاف عمل کرنے والے ہوں گے۔اب اخلاقی لحاظ سے جب ہم دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو بعض علاقے ، بعض قبائل اور بعض قو میں ایسی نظر آتی ہیں جن میں آداب بھی نہیں پائے جاتے حالانکہ آداب ہی اخلاق کی بنیا د ہوتے ہیں۔یعنی ان میں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔رہن سہن کی تمیز نہیں ہے۔کپڑے پہنے کی تمیز نہیں ہے ، کھانے پینے کی تمیز نہیں ہے گویا اس قسم کے جو آداب ہیں وہ بھی ان کے اندر نہیں پائے جاتے۔اچھے اخلاق کا تو سوال ہی نہیں۔بعض ایسے ملک ہیں جہاں یہ اعلان کیا گیا کہ اخلاق کیا ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں جو چیز ہمارے منصوبہ میں ممد و معاون ہے وہ اچھے اخلاق ہیں۔اور ہر وہ بات جو ہمارے راستے میں روک بنتی ہے وہ بُرا خلق ہے۔گو یا اگر سچ بولنا تمہارے راستے میں روک ہے تو سچ نہ بولو۔اگر جھوٹ بولنا تمہارے راستے میں محمد ہے تو یہ اچھا خلق ہے اس پر عمل کرو۔چنانچہ بہت بڑی بڑی قومیں ایسی ہیں جو اس قسم کے نظریے رکھتی ہیں۔احباب کو ان کے متعلق غور کرنا چاہئے مثلاً روس نے خدا کا انکار کیا۔اخلاق کا مضحکہ اڑایا اور کہا اخلاق کیا چیز ہوتے ہیں تاہم ایسے ملکوں کو ہم پر انہیں کہتے ہمیں ان پر رحم آتا ہے۔اخلاقی اقدار سے اُن کے انکار کی ایک وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ صحیح اور بچے اخلاق مذہب سکھاتا ہے مگر جس مذہب سے اُن کا واسطہ پڑا وہ عیسائیت تھی جو مذہبی اور اخلاقی اقدار سے محروم ہو رہی تھی۔دوست یہ یا درکھیں کہ ہمارے نزدیک تمام انبیاء اور مرسلین اللہ تعالیٰ کے مقرب اور نیک بندے تھے۔ہماری اُن کے حق میں ہر وقت دعا ئیں رہتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اُن کو بھی