سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 139
139 سبیل الرشاد جلد دوم قرآن کریم نے ایک طرف یہ کہا کہ مومن بھائی بھائی ہیں دوستانہ برادری جو ہے وہ رشتہ کی برادری تو نہیں ہے۔مومن بھائی بھائی کہا تو یہ دوستی کا بھائی چارہ ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ کہلوایا کہ ”اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ" پس سب سے پہلے بھائی یا دوست ہونے کا مقام قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان فرمایا ہے۔اور آپ کی زندگی میں یہ جلوہ بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔چند مثالیں میں اس وقت دے دیتا ہوں پھر اس سے جو سبق ہمیں حاصل کرنا چاہئے اس کی طرف میں آؤں گا۔وہ جس کو ایک ایسا مقام عطا کیا گیا کہ اس کے نتیجہ میں روحانی دنیا میں ایک عظیم انقلاب پیدا ہوا اور اس دنیا میں ایک قیامت بپا ہوئی۔روحانی طور پر جو مردہ تھے ، آپ کی دعاؤں کے طفیل وہ زندہ ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے لطیف پیرایہ میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔میں اس کو مختصراً بیان کر دیتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے طفیل ایک قیامت برپا ہوئی اور روحانی مُردے دُنیا میں زندہ ہوئے۔جب وہ ایک دوست کے رنگ میں بات کرتا ہے تو اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں۔آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے جبکہ وہ عمرہ کرنے کی اجازت لے کر جا رہے تھے فرمایا: يَا أَخِي اِشْرِ كُنَا فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا کہ اے بھائی! اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں بھی یا درکھنا بھول نہ جانا۔اب میں ساری مثالیں ایسی دوں گا جن سے دوستی کے حقوق ادا ہوتے ہیں۔بہترین دوست جس شکل میں اپنی دوستانہ زندگی کے دن گزار رہا ہوتا ہے ان کی مثال سامنے آ جاتی ہے۔ایک صحابی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ پر بھجوایا۔ان کے گھر میں کوئی اور مرد نہیں تھا اور ان کی عورتوں کو دودھ دوہنا نہیں آتا تھا۔اس کام پر آپ نے کسی اور کو نہیں لگایا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر جاتے اور دودھ دوہ کر ان کو دے آتے۔ایک بدوی صحابی جو آپ کی صحبت میں رہتے تھے اور ایمان اور اسلام میں ترقی کر رہے تھے۔اس کی روحانی نشو ونما کی وجہ سے بڑی خوشی محسوس ہوتی تھی اور آپ کے دل میں اس کے لئے ایک دوستانہ جذبہ پایا جاتا تھا۔ان کا نام زاہر تھا۔ایک دفعہ گاؤں سے شہر میں آئے۔جو چیزیں لائے تھے ان سورة الحجرات آیت ال ۱۱ مسند احمد بن حنبل جلد کے صفحہ ۷۹ امطبوعہ دارالمعارف مصر ايضا طبقات ابن سعد جلد۳ ابن سعد حصہ ششم صفحه ۲۱۳ بنت جناب بحوالہ سیرت النبی جلد دوم صفحه ۱۳۴۳ ز شبلی مرحوم