سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 110 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 110

سبیل الرشاد جلد دوم نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔110 پس پہلے سلسلۂ خلافت کی دو شاخوں کا میں نے اس وقت ذکر کیا ہے ایک پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور ایک کی طرف اختصار سے اشارہ کیا ہے یعنی (۱) چودہ خلفاء کا وہ سلسلہ جس کے سر پر بطور سردار اعظم اور افضل الرسل مجد داعظم کی حیثیت سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جس کے آخر میں مسیح موعود علیہ السلام جس کا اپنا وجود ہی کوئی نہیں۔اس لئے ہم لوگوں کو سمجھانے کے لئے بعض دفعہ عظیم روحانی فرزند بھی کہہ دیتے ہیں ، موعود مسیح اور معہود و مہدی بھی کہہ دیتے ہیں۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ انسان کی زبان میں وہ لفظ ابھی نہیں بنا کہ ہم اس مقام کو بیان کر سکیں جس فنافی محمد کے مقام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پایا اور کامل فتا اپنے وجود پر طاری کی آپ کا اپنا وجود ہی باقی نہ رہا سارا وجود سارے اخلاق سارے جذبات اور ساری قوتیں اور استعدادمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا ہوگئیں تمثیلی زبان میں آپ ہی دنیا میں دوبارہ نازل ہوئے بروز کے رنگ میں۔یہ تمثیلی زبان ہے کسی کو اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ تمثیلی زبان کا رواج ساری دُنیا میں پایا جاتا ہے اور اسی لئے پایا جاتا ہے کہ بعض باتوں کی حقیقت کے اظہار کے لئے الفاظ نہیں ملتے اس لئے مثال دے دی جاتی ہے۔دوسرے خلافت راشدہ کی وہ دوسری شاخ ہے جو ان بارہ سے مختلف ہے۔یعنی خلفاء راشدین میں سے بعض پہلی شاخ کا حصہ بن گئے اور چودہ میں شامل ہو گئے اور بعض ایسے ہیں جو ان چودہ خلفاء کے سلسلہ میں شامل نہیں اور خلافت راشدہ کی دوسری شاخ ہم انہیں کہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بعد آپ کے نظل کے طور پر آنے والے خلفاء اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔پس خلافت راشدہ تو قائم ہے حسب وعدہ آیت استخلاف ، مگر خلافت راشدہ کا یہ ایک دوسر ا سلسلہ اور دوسری شاخ ہے۔کچھ کڑیاں پروئی گئیں کچھ آئندہ پروئی جائیں گی۔جب تک خدا چاہے گا یہ سلسلہ اپنی کڑیوں کے لحاظ سے بڑھتا چلا جائے گا۔پھر آیت استخلاف میں خلافت کے ایک دوسرے سلسلہ کا وعدہ بھی دیا گیا ہے جو پہلی دوشاخوں سے مختلف ہے۔ہے تو یہ خلافت حلقہ ہی لیکن ہم نے ایک اصطلاح بنائی تھی اس لئے اس کو ہم خلافتِ راشدہ نہیں کہتے گور شد سے وہ بھی بھری ہوئی ہے ہم اسے خلافت ائمہ کہیں گے اور خلافت کا یہ الوصیت صفحہ ۶ - ے روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۴ - ۳۰۵