سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 88
سبیل الرشاد جلد دوم 88 دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ خوشخبری دیتے ہوئے اور ہمارے دلوں کو ڈھارس وو دیتے ہوئے فرماتے ہیں : یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ پیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعوی بیعت میں صادق اور کون کا ذب ہے۔وہ جو کسی ابتلاء سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی۔اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کیلئے اچھا تھا۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قو میں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا اُن سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی اور وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے یہ بشارتیں اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی۔اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ مقدر کر دیا ہے کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آئے۔اسلام کے ہر دو انوار سے ساری دنیا کے سب اندھیرے نور سے بدل جائیں اور بنی نوع انسان اپنے پیدا کرنے والے رب اور اس کے نور کو پہچانے لگیں اور اپنے محسن اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے دل میں شدید محبت پائیں اور اس محبت سے مجبور ہو کر وہ قرآن کے گرد بھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی عاشقانہ اور بے تابانہ دنیا کیلئے اور دنیا کی تربیت کے لئے قربانیاں دیتے چلے جائیں۔یہ آسمانوں پر مقدر ہے اور یہ ہو کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو سعید ارواح عطا کرے گا اور نیک دل دے گا اور ان کے سینوں کو اپنے نور سے منور کرے گا اور ایک شدید محبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے دلوں میں پیدا کرے گا۔اور ہر قسم کی قربانیاں وہ اس کی راہ میں ہمیشہ پیش کرتے رہیں گے مگر کسی اپنی خوبی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متعلق یہ فرمایا ہے کہ۔تجلیات الهیه صفحه ۲۲ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۹ الوصیت صفحه ۱۳-۱۴ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۹