سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 89
سبیل الرشاد جلد دوم 89 88 " میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور میں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مُشتِ خاک کو اس نے با وجود تمام بے ہنریوں کے قبول کیا۔تو اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے مخلصین کو قبول تو کرتا ہے اور کرتا رہے گا لیکن جماعت کے دل میں کبھی تکبر اور فخر کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہئیں اور جب ان کا آقا اپنے رب کے حضور ایک مزدور کی حیثیت میں ایک نالائق اور بے ہنر مزدور کی حیثیت پیش کر رہا ہے تو ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ ہم اپنی کم مائیگی اور بے ہنری کو بیان کر سکیں۔پس عاجزانہ راہوں کو ہمیشہ اختیار کرتے رہوا اور شیطان کے ایسے حربوں سے اپنے نفوس کو بچاؤ جن کے نتیجہ میں انسان تکبر جیسی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے اور ہر خیر جو تم سے صادر ہو ہر نیکی جسے کرنے کی تم توفیق پاؤ اسے اپنے نفس کی طرف منسوب نہ کرو بلکہ اپنے رب کے فضلوں کی طرف منسوب کرو اور اگر تم ان عاجزانہ راہوں کو ہمیشہ اختیار کرتے رہو گے تو یاد رکھو کہ دنیا کی کوئی طاقت اسلام کے غلبہ کے دن کو دور نہیں کر سکتی وہ دن تو مقدر ہو چکا آسمانوں پر۔وہ دن تو ضرور چڑھے گا اس زمین پر دنیا کے اندھیرے اس سورج کو طلوع ہونے سے روک نہیں سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ ہم سے کچھ قربانیاں چاہتا ہے تاکہ ہم اس کے فضلوں کے وارث بنیں۔ہمیں گالیاں دی جاتی ہیں ، طعنہ زنی کی جاتی ہے، استہزاء اور تحقیر سے نام لئے جاتے ہیں، دیواروں پر ہمارے خلاف گندے فقرے لکھے جاتے ہیں۔کیا دیواروں پر لکھے گئے یہ فقرے ہماری اس بنیادکو کمزور کر سکتے ہیں جس بنیاد کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کیلئے دنیا میں کھڑا کیا ہے۔وہ بنیاد کمزور نہیں ہو سکتی اس لئے کہ اس بنیاد پر اسلام کے محل تیار ہونے ہیں۔اس میں ساری دنیا نے پناہ لینی ہے۔شیطان سے حفاظت کیلئے ان محلوں کا بنایا جانا ضروری ہے۔یہ وہ محل ہیں جہاں سے اس روشنی نے طلوع کرنا ہے جس نے ساری دنیا میں اسلام کے نور کو پھیلانا ہے۔جس نے ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی اشاعت کرنی ہے اور جہاں سے ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اور فیوض کا انتشار ہونا ہے۔ان محلات کی بنیادوں کو ہوا میں بکھرے ہوئے گندے فقرے یا دیواروں پر لکھی گئی گندی عبارتیں کمزور نہیں کر سکتیں۔یہ تو مقدر ہے۔ہمارے دلوں کو دکھ دیا جا سکتا ہے، ہمارے جسموں کو زخمی کیا جاسکتا ہے لیکن خدا کی تقدیر کو نہیں بدلا جا سکتا ہے۔یہ تقدیر تو اٹل ہے ، اسلام کا غلبہ تو ضرور ہونا ہے۔دہریت جتنا مرضی ہے زور لگا ا تجلیات الہیہ صفحه ۲۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه۴۱۰