سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 74
74 سبیل الرشاد جلد دوم اپنے وجود پر ؟ احمقانہ خیال ہو گا یعنی اگر کوئی شخص آج یہاں کھڑا ہو کر کہے کہ میں اپنے آپ سے بڑا ہوں تو آپ کہیں گے ادھر آؤ۔ذرا باہر چلو۔تمہیں کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں کہ تم پاگل ہو گئے ہو۔تو چونکہ ایک وجود بن جاتا ہے اس لئے جماعت میں کوئی بزرگی نہیں۔بزرگیاں سب جماعت کو حاصل ہیں جو خدا نے دی ہیں کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی برگزیدہ اور چنیدہ جماعت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نیابت میں ہی خلافت ملی نا! اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ” میرے وجود کی سرسبز شا خو!“ تو جس کو اس کی نیابت میں کوئی مقام ملا ہے وہ سارے ایک ہی وجود کی سرسبز شاخیں ہیں بہر حال جماعت اور خلیفہ ایک ہی وجود ہے اور میں ایسے محسوس کرتا ہوں اور اس کے لئے میں قسم کھانے کے لئے بھی تیار ہوں کہ یہ ایک ہی وجود ہے۔دونوں طرف محبت کے دریا ہیں جو بہتے چلے جا رہے ہیں اور یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے ہماری طاقت اور قدرت میں یہ چیز نہیں۔اس نے ہی فضل کیا اور تمام جماعت کو بشمولیت خلیفہ وقت ایک وجود بنا دیا۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں لیکن بعض نادان جب دیکھتے ہیں اور وہ آدھی چیز دیکھتے ہیں یعنی جماعت کا پیار تو دیکھتے ہیں مگر خلیفہ وقت کا پیار نہیں دیکھتے تو ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم بھی بزرگ بنیں اور اس پیار کا حصہ لیں اور یہ ہلاکت کی راہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں اس کا بھی ذکر کیا ہے۔مثلاً چراغ دین جمونی مرتد ہوا اور اس نے بہت سے دعوے کئے۔ان سب دعوؤں کے متعلق تو میں اس وقت کچھ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ ان کا میرے مضمون سے تعلق نہیں۔لیکن ایک یہ بھی تھا کہ وہ اپنے آپ کو جماعت میں ایک بزرگ ہستی سمجھنے لگ گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے متعلق یہ لکھتے ہیں کہ۔”اس نے جماعت کے تمام مخلصوں کی تو ہین کی کہ اپنے نفس کو ان پر مقدم کر لیا“ کتنے پیار کا اظہار ہے اس فقرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے جماعت کے لئے اور کس قسم کی تنبیہ ہے اس شخص کے لئے جس کو اللہ تعالیٰ نے اصلاح اور تو بہ کا موقع نہیں دیا۔لیکن بہت ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اصلاح اور توبہ کا موقع دے دیتا ہے۔پس اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ اپنی دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں اگر وہ یہ سمجھتا ہو اور یا بعض کشوف اور رؤیا اس کو ہوں۔بیچے یا غلط۔اور ان کی وجہ سے وہ کوئی ایسا وجود بن گیا ہے کہ جس کو جماعت پر مقدم رکھنا چاہئے۔تو وہ ہلاکت کی راہ پر چل رہا ہے۔اس کو اپنی فکر کر لینی چاہئے۔کوئی شخص اس مقدس اور برگزیدہ جماعت میں ایسا نہیں جس کو