سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 72 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 72

سبیل الرشاد جلد دوم 72 بعض ایسی مجالس ہو سکتی ہیں جہاں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو قرآن کریم پڑھا سکے۔میرے علم میں بھی بعض ایسے مقامات ہیں جہاں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس جماعت کو قرآن کریم پڑھا سکے۔جس حد تک مجھے علم ہے۔میں کوشش کرتا ہوں کہ وقف عارضی کے زیادہ سے زیادہ وفود وہاں بھجوائے جائیں۔لیکن جہاں بھی آپ اپنی کوشش سے یہ نتیجہ نہ نکال سکیں اور سمجھیں کہ آپ کے پاس ایسے سامان نہیں کہ تمام جماعت کو قرآن کریم پڑھایا جا سکے۔وہ آپ ہمیں لکھیں ہم انشاء اللہ تعالی مرکز کی طرف سے وہاں قرآن کریم پڑھانے کا انتظام کریں گے۔لیکن آپ میں سے کم از کم ہر شخص یہ عہد اپنے دل میں کر کے یہاں سے جائے کہ وہ اس بات میں اپنی پوری کوشش کرے گا کہ اس کی جماعت کا ہر فرد قرآن کریم پڑھنے لگ جائے اور قرآن کریم کا ترجمہ جاننے لگ جائے اور جس حد تک ممکن ہو قرآن کریم کی وہ تفسیر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں ملی ہے اس سے اُسے واقفیت حاصل ہو جائے۔اب میں ایک اور ضروری بات کے متعلق اپنے دوستوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ میں نے ایک دو دفعہ پہلے بھی بتایا ہے کہ جب مجھ سے کو پن ہاگن ( ڈنمارک) کے بارہ پادریوں کے وفد نے یہ سوال کیا کہ جماعت احمدیہ میں آپ کا مقام کیا ہے؟ تو میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ میرے نزدیک تمہارا یہ سوال درست نہیں کیونکہ میرے نزدیک جماعت احمدیہ اور میں ایک ہی وجود کے نام ہیں۔چونکہ ہمارا وجود ہی ایک ہے اسلئے آپ کا یہ سوال درست نہیں ہے کہ جماعت میں میرا مقام کیا ہے۔آپ کا سوال تو تب درست ہوتا اگر میرا وجود اور ہوتا اور جماعت کا وجود اور ہوتا۔جب میں نے یہ جواب دیا تو اس کا مطلب کیا تھا۔میں ذرا تفصیل میں جانا چاہتا ہوں۔ہم یہ اعتقا در کھتے ہیں اور ہمارا اس پر یقین اور ایمان ہے کہ جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ نے نظام خلافت کو قائم اور جاری کیا ہے اور وہ خود جماعت میں خلیفہ کو مقرر کرتا ہے۔یعنی انتخاب کے وقت لوگوں کی رائے کا نتیجہ ظاہر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کا نتیجہ ظاہر ہوتا ہے اور خلیفہ وقت کے دل میں اللہ تعالیٰ احباب جماعت احمدیہ کے لئے اس قدر شدید محبت پیدا کرتا ہے کہ دنیا اس کا اندازہ نہیں کر سکتی اور جماعت کے دل میں اس کے لئے ایک ایسی محبت پیدا کرتا ہے جو دنیا کی عقل کو حیران کرنے والی ہو اور جب ان دو محبتوں کی آگ اکٹھی ہوتی ہے تو سارے وجود غائب ہو جاتے ہیں اور سارے مل کے ایک وجود بن جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف ایک وہ دل ہوتا ہے کہ جماعت کے ہر فرد کے دکھ میں برابر کا شریک اور ان کی پریشانیوں میں برابر کا حصہ دار۔انسان کے ساتھ پریشانیاں لگی ہوئی ہیں اس لئے آپ میں سے ہر شخص کسی نہ کسی وقت ضرور پریشان ہوا ہو گا اور آپ میں سے ہر شخص یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ آپ ایک کی