سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 71 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 71

71 سبیل الرشاد جلد دوم کہ اپنے گھروں میں ہر قیمت پر قرآن کریم سکھانے کا انتظام کرو۔اور پوری کوشش کرو کہ آپ کی اولاد میں سے یا وہ لوگ جو خدا تعالیٰ نے آپ کے ماتحت کئے ہیں۔ان میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ رہے کہ جو قرآن کریم پڑھنا نہ جانتا ہو۔اس کا ترجمہ نہ جانتا ہو۔اور موجودہ زمانہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تفسیر سے واقف نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہر شخص اپنی قوت اور استعداد کے مطابق علم حاصل کرتا ہے لیکن جس حد تک کسی میں اللہ تعالیٰ نے یہ استعداد رکھی ہے کہ وہ قرآن کریم کے معانی کو سمجھ سکے اور اس کے انوار سے حصہ لے سکے۔اس استعداد کی حد تک اُسے قرآن کریم سمجھ لینا چاہئے اور اس کے انوار میں حصہ دار بن جانا چاہئے۔اس کے بغیر ہم وہ زندگی نہیں گزار سکتے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے کہ گزاریں اور اس کے بغیر ہمیں وہ کامیابیاں حاصل نہیں ہو سکتیں جن کا میابیوں کے وعدے اللہ تعالیٰ نے ہم سے کئے ہیں۔ہماری جو بھی کامیابیاں ہیں اور جو بشارتیں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے جماعت کو دی ہیں۔وہ بشارتیں اس وقت ہی پوری ہو سکتی ہیں جب کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق قرآن کریم کو پڑھنے والے اور اس کو سمجھنے والے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے والے ہوں۔اگر آج جماعت احمدیہ قرآن کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے لگ جائے اور ہمارے اند رکوئی خامی اور نقص باقی نہ رہے تو بہت جلد دنیا اسلام کی طرف متوجہ ہوا اور اپنے ربّ کو پہچاننے لگے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ان کے دلوں میں پیدا ہو جائے اور آپ کے لئے درودان کی زبانوں پر جاری ہو جا دے۔تو قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے کا انتظام اس حد تک مکمل ہو جانا چاہئے کہ اگلے دوسال کے اندر اندر ہم اپنے مقصد کو حاصل کر لیں۔مغربی پاکستان کے رہنے والے بھی اور مشرقی پاکستان کے رہنے والے بھی اور اس کے لئے آپ اپنے اپنے مقامات پر جا کر کوئی منصو بہ تیار کریں۔کیونکہ جب تک انسان کسی منصوبہ کے ماتحت کام نہ کرے اس وقت تک وہ کامیاب نہیں ہوا کرتا۔بہت سے دوست اخلاص رکھتے ہیں اور وہ ارادہ کرتے ہیں کہ فلاں کام شروع کر دیں گے اور کچھ دن اس طرح گزر جاتے ہیں اور جب وہ اس کام کو شروع کرتے ہیں تو وہ ادھورا ہوتا ہے کیونکہ کوئی منصو بہ نہیں ہوتا۔پس ہر ایک کو آپ میں سے اپنے اپنے مقام پر جا کر جائزہ لینا چاہئے۔کچھ جائزہ تو پہلے لیا جا چکا ہے لیکن جہاں جائزہ نہیں لیا گیا وہاں جائزہ لینا چاہئے کہ کون کون قرآن کریم نہیں پڑھ سکتا اور ان کو قرآن کریم پڑھانے کا انتظام کیا جائے۔