سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page ix
viii فرماتے ہیں: د مسکراؤ مسکراؤ اور مسکراتے چلے جاؤ کسی ماں نےایسا بچہ نہیں جنا جو ہماری مسکراہٹیں چھین سکے آپ کے دل میں احباب جماعت کے لئے جو پیار و محبت کا سمندر موجزن تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے دنیوی لحاظ سے وہ تلخیاں جو دوستوں نے انفرادی طور پر محسوس کیں وہ ساری تلخیاں میرے سینے میں جمع ہوتی تھیں۔ان دنوں میں مجھ پر ایسی راتیں بھی آئیں کہ میں خدا کے فضل اور رحم سے ساری ساری رات ایک منٹ سوئے بغیر دوستوں کے لئے دعا کرتا رہا ہوں۔“ (جلسہ سالانہ کی دعائیں صفحہ ۹۷) خلیفہ وقت کے دل میں احباب جماعت کے لئے اور احباب کے دلوں میں خلیفہ وقت کے لئے محبت کا جو جذ بہ موجزن ہوتا ہے اُس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” خلیفہ وقت کے دل میں اللہ تعالیٰ احباب جماعت احمدیہ کے لئے اس قدر شدید محبت پیدا کرتا ہے کہ دنیا اس کا اندازہ نہیں کر سکتی اور جماعت کے دل میں اس کے لئے ایک ایسی محبت پیدا کرتا ہے جو دنیا کی عقل کو حیران کرنے والی ہو اور جب ان دو محبتوں کی آگ اکٹھی ہوتی ہے تو سارے وجود غائب ہو جاتے ہیں اور سارے مل کے ایک وجود بن جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف ایک وہ دل ہوتا ہے کہ جماعت کے ہر فرد کے دکھ میں برابر کا شریک اور ان کی پریشانیوں میں برابر کا حصہ دار۔انسان کے ساتھ پر یشا نیاں لگی ہوئی ہیں اس لئے آپ میں سے ہر شخص کسی نہ کسی وقت ضرور پریشان ہوا ہو گا اور آپ میں سے ہر شخص یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ آپ ایک کی پریشانی نے آپ کو کتنا پریشان کیا۔وہ اس پریشانی کے وقت کس قدر پریشان ہوا۔تو وہ دل جو ہر پریشان دل کے ساتھ اسی طرح پریشان ہوا اور جس نے ہر دُ کھ اٹھائے جانے والے بھائی کے ساتھ ویسا ہی دُکھا اٹھایا اس دل کی کیا کیفیت ہوگی۔“ (کتاب ہذا صفحه ۷۲-۷۳) آپ نے بنی نوع انسان کی عزت اور احترام کو قائم کرنے کے لئے جہاں خود جد و جہد کی وہاں جماعت احمدیہ کو یہ لائحہ عمل دیا کہ LOVE FOR ALL HATRED FOR NONE محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔خدا اور اس کے رسول اور قرآن کی محبت آپ کی روح کی غذا تھی۔اس محبت کو تمام بنی نوع انسان میں پیدا کرنے کے لئے آپ ساری زندگی سرگرم عمل رہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: " حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات وصفات، آپ کی انسانی خدمات ، آپ کا احسان اور وہ حسن جو خدا نے آپ کے اندر پیدا کیا وہ اس بات کا شاہد ہے کہ جب کوئی چیز محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی صفت یا خوبی کے یا آپ کے کسی حسن و احسان یا آپ کے کسی نور کے مقابلہ میں آئے گی تو دھتکار دی جائے گی۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ تو۔