سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 70 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 70

70 سبیل الرشاد جلد دوم پیدا کر لئے۔ہر قسم کے دُکھ اور پریشانی کے سامان پیدا کر لئے۔اگر قرآن کریم کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جاتا۔اگر قرآن کریم کے انوار سے اپنے سینوں کو منور رکھا جاتا۔اگر قرآن کریم کے احکام پر کار بند رہا جاتا۔اگر قرآن کریم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا جاتا۔اگر قرآن کریم کا ایک عملی نمونہ بن کر اس دنیا میں زندگی گزاری جاتی۔تو ہماری وہ حالت نہ ہوتی جو آج ہمیں نظر آ رہی ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرما کے ہمارے کانوں میں یہ آواز ڈالی اور ہمارے دلوں میں اسکو گاڑ دیا کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِی القرآن اگر تم کسی قسم کی خیر اور بھلائی حاصل کرنا چاہتے ہو تو قرآن کریم کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایک اور زبردست تنبیہ بھی کی ہے جس کو پڑھ کے انسان کانپ اٹھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ یہ بتایا کہ۔مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي نَبْتَلِيْهِ بِذُرِّيَّةٍ فَاسِقَةٍ مُلْحِدَةٍ يَمِيْلُوْنَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَا يَعْبُدُ وَنَنِي شَيْئًا اور آپ نے اس کا یہ ترجمہ فرمایا کہ۔” جو شخص قرآن سے کنارہ کرے گا۔ہم اس کو ایک خبیث اولاد کے ساتھ مبتلا کریں گے۔جن کی ملحدانہ زندگی ہوگی۔وہ دنیا پر گریں گے اور میری پرستش سے ان کو کچھ بھی حصہ نہ ہوگا۔یعنی ایسی اولاد کا انجام بد ہوگا اور تو بہ اور تقویٰ نصیب نہیں ہوگا۔پس اگر آپ اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچنا چاہتے ہیں اور اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولا دذریہ فاسقہ ملحدہ نہ ہو جو دنیا کی طرف مائل اور اپنے رب کو بھولنے والی ہو تو آپ کے لئے یہ ضروری ہے کہ جہاں آپ خود قرآن کریم کو سیکھیں وہاں اپنی اولاد کو قرآن کریم سکھائیں اور قرآن کریم ان کو پڑھا ئیں۔میں نے تعلیم قرآن کریم کی ایک سکیم، ایک منصوبہ جاری کیا تھا۔جماعت نے ایک حد تک تو اس کی طرف توجہ دی ہے۔لیکن مجھے ابھی پوری تسلی نہیں کیونکہ میں نے یہ سوچا تھا اور اس کے مطابق میں نے یہ دعائیں کی تھیں کہ اے خدا تو ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم تین سال کے اندر اندر ہر احمدی کو قرآن کریم پڑھا دیں ،سکھا دیں۔ایک سال تو قریباً گزر گیا ہے۔اس سال میں جتنی ہم نے ترقی کی ہے۔اس سے مجھے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تین سال کے اندراندراپنے اس مقصد کے حصول میں نا کام رہیں۔پس اس موقع پر میں پھر اپنی جماعت کو اور خصوصاً مجلس انصار اللہ کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں ریویو بر مباحثه چکڑالوی و بٹالوی صفحه ۵ حاشیه روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۳