سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 69
69 سبیل الرشاد جلد دوم اخراجات کے لئے دکان سے رقم نکالی تو اس میں سے وہ رقم نکال لی۔بلکہ یہ عادت ڈالنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں روزانہ کچھ دیں۔تاکہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں بھی اس قربانی کے نتیجہ میں جو بظاہر حقیری ہوگی۔اگر خدا کرے وہ قبول ہو جائے ایک بڑی برکت ڈالی جائے۔تو جماعت میں زندگی پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے اپنے اندر زندگی کے نمایاں آثار ظاہر ہو رہے ہوں اور ہر مقام پر کسی کو یہ پوچھنے یا یہ بتانے کی ضرورت نہ ہو کہ یہاں مجلس انصار اللہ قائم ہے بلکہ ہمارے کام ، ہماری تدابیر جو ہم اس مقام پر اختیار کریں اور ہماری دعائیں جو ہم کر رہے ہوں ، ہر آنے والے کو ہماری طرف متوجہ کریں اور وہ سمجھیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی یاد میں محور ہتے ہوئے اس کی حمد کرتے رہتے ہیں اور اس کی مخلوق پر ، ہر موقع پر احسان کرتے ہیں اور ان کے خیر خواہ ہیں اور ان کے غم خوار ہیں اور ان کے مددگار ہیں اور کسی جگہ بھی اگر دکھ اور تکلیف اور پریشانی انہیں نظر آئے تو جس حد تک طاقت ان میں ہے وہ اس دُکھ تکلیف اور پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر آپ اس رنگ میں کام کریں تو آپ دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔پھر وہ لوگ جو اس وقت ہماری بات سننے کے لئے تیار نہیں آپ کی باتیں سنیں گے اور جب وہ آپ کی باتیں سنیں گے تو اللہ تعالیٰ ان میں سے بہتوں کی ہدایت کے سامان بھی پیدا کر دے گا۔تو ایک زندہ جماعت اور ایک زندہ مجلس کی حیثیت میں ہمیں اپنی زندگیوں کے دن گزار نے چاہئیں اور اپنے نفس کی اصلاح اور انہیں اپنے چھوٹوں بڑوں اور اپنی اولا داور ان لوگوں کی جو ہمارے زیر اثر ہیں ان کی تربیت کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔اس کے لئے قرآن کریم کا پڑھنا پڑھانا بہت ضروری ہے۔قرآن کریم کی طرف اگر ہم اتنی توجہ دیں جتنی ہمیں دینی چاہئے ، اگر قرآنی انوار سے حصہ لینے کی ہم وہ کوشش اور جدوجہد کریں جو ہمیں کرنی چاہئے ، اگر قرآنی مطالب سیکھنے میں ہم میں اس قسم کا انہماک پیدا ہو جائے جو انہماک پیدا ہونا چاہئے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم پہلے سے بھی کہیں زیادہ جذب کرنے والے ہو جائیں گے۔قرآن کریم بڑی برکتوں والی کتاب ہے۔قرآن کریم میں دنیا کی تمام بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں۔خیر ہی خیر ہے اور ہر قسم کی خیر اس میں ہے اور اس سے باہر کوئی خیر نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے دنیا اسے سمجھے یا نہ سمجھے۔ہم اسے پہچانیں یا نہ پہچا نہیں۔مگر یہ ایک ایسی صداقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔قرآن کریم دنیا میں ایک جنت کو قائم کرنے کے لئے اور پیدا کرنے کیلئے نازل ہوا تھا۔لیکن مسلمان اس کو بھول گئے اور جنت کی بجائے انہوں نے اپنے لئے دوزخ کے سامان پیدا کر لئے۔تکلیف کے سامان پیدا کر لئے۔تنزل کے سامان پیدا کر لئے۔بے عزتی کے سامان