سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 59
سبیل الرشاد جلد دوم 59 ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے۔اور ہم اس کے بھی بے شمار مظاہرے اور جلوے ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں اور بھی بہت سے میدان ہیں۔جن میں اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیں نظر آتی ہے اور جب ہم اللہ تعالیٰ کے اس پیار کو دیکھتے ہیں تو ہمارے سر جھک جاتے ہیں اور ہماری روح پکھل کر آستانہ الوہیت پر بہنے لگتی ہے اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اس خواہش میں دیوانہ ہورہا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی راہ میں قربان ہو جائے۔جب تک یہ جذ بہ جماعت میں قائم ہے۔اس وقت تک ہم واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی انصار اللہ ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ ثابت کر رہی ہے کہ ہم انصار اللہ ہیں کیونکہ اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا کہ جو میری مدد کرے گا میں اس کی مدد کے لئے آؤں گا۔تو جس کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ آسمانوں سے آئے اور اس کے فرشتے نازل ہوں اس کے متعلق قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں ہم حتمی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ واقع میں حقیر ہونے کے باوجود، کم مایہ ہونے کے باوجود، کمزور ہونے کے باوجو د غفلتوں کے باوجود جو کچھ انہوں نے خدا کے حضور پیش کیا تھا اُس نے وہ قبول کر لیا۔کیونکہ اگر وہ قربانیاں نہ ہوتیں تو یہ جماعت انصار اللہ نہ بنتی اور اگر یہ انصار اللہ نہ ہوتی۔تو خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت اس کے شامل حال نہ ہوتی۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال ہے۔اس لئے ہم اس نتیجہ پر پہنچنے کے لئے مجبور ہیں کہ واقع میں خدا کی نگاہ میں یہ جماعت انصار اللہ کی جماعت ہے۔- یہ تو تھی انصار اللہ کی شناخت - اب میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔انصار اللہ کی ذمہ داریوں پر - جب اللہ تعالیٰ اپنا کوئی مامور دنیا میں مبعوث فرماتا ہے تو اس کا زمانہ تین حصوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ایک زمانہ ہوتا ہے بنیا دوں کو مضبوط کرنے کا۔اس وقت بنیادیں قائم کی جا رہی ہوتی ہیں۔پھر دوسرا زمانہ آتا ہے۔ان بنیادوں پر روحانی قلعوں کی تعمیر کا اور پھر تیرا زمانہ آتا ہے۔ان روحانی قلعوں کو خوبصورت بنانے اور کنسالیڈیشن (Consolidation) کا اور ان کے فیوض کو ساری دنیا میں قائم رکھنے کی جد و جہد کا۔قائم کرنے کی جد و جہد اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔اور قائم رکھنے کی جد و جہد پھر شروع ہو جاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے پر جب نگاہ ڈالیں۔یعنی اسلام کی نشاۃ اولیٰ پر تو اس زمانہ میں بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک مسلمانوں کی تعداد تھوڑی تھی۔پہلے عرب کے لئے بنیا دیں مضبوط کی گئیں پھر خود سا را جزیرہ نما عرب جو تھا وہ بطور بنیاد کے بن گیا۔اور وہاں دنیا میں جو اسلام کے قلعے تعمیر ہوئے تھے۔ان کی بنیادوں کی مضبوطی کے سامان پیدا کئے گئے اس کے بعد پھر ایسا زمانہ آیا کہ وہ