سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 56

سبیل الرشاد جلد دوم 56 بھی ایک بشاشت پیدا ہوئی کہ اس دن دو دعاؤں کی تحریک کی گئی تھی۔ایک میں نے اپنے متعلق دوستوں کو کی تھی کہ جو انذار کا پہلو ہو۔وہ اللہ تعالیٰ ٹال دے وہ پہلو تو نمایاں نہیں تھا۔نہ پتہ لگ سکتا ہے اس مادی آنکھ کو کہ وہ کیا پہلو تھا۔وہ کس طرح ٹلایا نہیں ٹلا - وَالله اَعْلَمُ۔ہم اپنے رب پرامید رکھتے ہیں کہ وہ بھی ٹل گیا۔لیکن ساتھ ایک ایسی دعا کی گئی جو نظر آ رہا تھا کہ پوری ہو گئی۔مادی آنکھ نے بھی دیکھا اور آنکھ نے محسوس کیا کہ بچہ کے لئے دعا کی گئی تھی۔جس کو کئی روز سے شاید پانچ دن سے بھی زیادہ ۱۰۵ سے کم بخار نہیں ہوتا تھا۔اس رات اللہ تعالیٰ نے میری اور آپ کی دعاؤں کو قبول کر کے بخار کو اتار دیا۔اس سے میرے دل میں یہ بشاشت پیدا ہوئی کہ دو دعائیں کی گئیں تھیں۔ایک ظاہر اپوری ہو گئی تھی۔دوسری نظر نہیں آ سکتی اس لئے امید رکھتے ہیں کہ وہ دعا بھی اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی اور جو بھی بلا تھی۔اور پریشانی تھی۔وہ اللہ تعالی نے ٹال دی - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - تو ایک نصرت تو اللہ تعالیٰ کی اس رنگ میں نازل ہوئی ہے اور اس کثرت سے نازل ہو رہی ہے کہ صرف اس نصرت کے شکر کے طور پر اگر ہم اپنی - زندگیوں کے باقی سانس اس کی حمد میں گزاریں تب بھی اس کی حمد کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔دوسرے رنگ میں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر فیصلہ کیا کہ وہ دنیا میں دوبارہ اسلام کو غالب کرے گا۔اور اپنے اس فیصلہ کے نفاذ کے لئے اس نے اپنے ایک بندے کو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد میں سب سے بلند مقام اور ارفع مقام رکھتا تھا۔اسے مبعوث کیا اور مامور کیا اور اس کے گرد ایک چھوٹی سی جماعت اس نے جمع کر دی۔جو آج قریباً سو سالہ ترقیات کے بعد بھی اپنی تعداد میں دنیا کی آبادی کے لحاظ سے چھوٹی سی جماعت ہے۔اور ایک غریب سی جماعت ہے۔اور ایک کم مایہ کی جماعت ہے۔اور ایک ایسی جماعت ہے جس کے پاس کوئی سیاسی اقتدار نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ نے کہا۔میں اس جماعت اس ذرہ ناچیز کو اپنے ہاتھ میں لوں گا اور اس کے ذریعہ سے دنیا میں اسلام کو غالب کروں گا اور پھر اس نے ایک طرف اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ وہ اس کی راہ میں قربانیاں دیں اور دیتے چلے جائیں اور دوسری طرف آسمان سے فرشتوں کو نازل کیا۔اور ان سے کہا کہ جماعت کی حقیر قربانیوں کی طرف نگاہ نہ کرنا۔بلکہ میرا فیصلہ جو آسمانوں پر ہو چکا ہے۔زمین پر اس کو نازل کرو۔چنانچہ ہماری حسین قربانیوں کا جو نتیجہ اس وقت تک نکلا ہے۔اگر ہم آنکھیں کھول کر اس نتیجہ پر غور کریں تو ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ ان اچھے نتائج کا ہماری قربانیوں کے ساتھ کوئی تناسب ہی نہیں بلکہ قربانیاں اتنی حقیر ہیں۔اور نتائج بڑے شاندار نکل رہے ہیں۔آج بھی میں نے جمعہ میں بتایا تھا کہ تحریک جدید کی فوج نے ۳۴ ء سے لے کر ۴۴ ء تک