سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 55

55 سبیل الرشاد جلد دوم اور اس کے بعد جو بچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا وہ لڑکا تھا۔تو افریقہ میں کئی ہزار میل دور بیٹھے ہوئے اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا کہ میں دعا کے لئے وہاں لکھوں پھر اللہ تعالیٰ کا اس دعا کو قبول کر لینا ، اور ان چھ لڑکیوں کے بعد اس کولر کا عطا کرنا یہ ایک ایسی نصرت ہے کہ اس کا دل اپنے اللہ کی محبت سے اور اس کی حمد سے معمور ہو گیا ایک طرف۔اور دوسری طرف سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ اس کی عقیدت پہلے سے کہیں بڑھ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک ایسی جماعت پیدا کر دی ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ فضل کر رہا ہے۔اور اس طرح ہم ایک دوسرے کے لئے جو دعائیں کرتے ہیں۔وہ سنتا ہے اور تسکین قلب کے سامان - پیدا کرتا ہے۔تو سینکڑوں ہزاروں مثالیں اس قسم کی قبولیت دعا کی بیان کی جاسکتی ہیں۔ہر موقع پر ، ہر مقام سے ، یہاں بھی ، امریکہ میں بھی ، انگلستان میں بھی اور یورپ میں بھی اور افریقہ کے سارے ملکوں میں اور نبی میں اور آسٹریلیا میں ، جہاں احمدی ہیں وہاں ، فلپائن میں ، جہاں جہاں بھی احمدی ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی برادری بنا دیا ہے۔کہ جو برا دری حقیقی معنی میں اس وقت تک ہمیں نظر آتی ہے۔انصار اللہ کی برادری ہے اور اللہ تعالیٰ جماعت کی دعاؤں کو ایسے رنگ میں قبول کرتا ہے کہ وہاں ہزار ہا میل پر بیٹھے ہوئے وہ حیران ہوتے ہیں اور احمدیت کی برکت سے ہزاروں لاکھوں ایسے ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ اپنے رب کو شناخت کیا ہے۔وہ بڑی قدرتوں والا اور طاقتوں والا اور دنیا اور اس کی ہر چیز اس کے قبضہ اور تصرف میں ہے۔جس طرح وہ چاہتا ہے اسی طرح اس دنیا میں ہوتا ہے۔ابھی چند دن ہوئے۔ہماری چھوٹی پھوپھی جان حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے ایک منذر خواب دیکھی۔یا کوئی نظارہ دیکھا۔وہ تو انہوں نے مجھے نہیں لکھا۔بہر حال مجھے لکھا کہ آپ دعا کریں اور دعا کی تحریک کریں۔اور صدقہ دیں۔اتفاقاً جس جمعہ کو مجھے وہ خط ملا۔اس جمعہ کو چار پانچ روز ہو چکے تھے۔ان کے ایک نواسے کی بیماری جسے انفیکشن تھی۔اور بخار جو تھا وہ کم ہوتا ہی نہ تھا۔ہرقسم کی دوائیں جو آج موجود ہیں وہ اس کے اوپر استعمال کی جا چکی تھیں لیکن بخار میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔حتی کہ یہ بھی نہیں کہ دو ڈگری کم ہو جائے۔وہ روزانہ ۱۰۵ کا ہوتا تھا۔جس کے بعد سے وہ بہت پریشان تھیں۔تو میں نے جمعہ میں بھی اس عزیز بچہ کے لئے دعا کی تحریک کی۔اس شام میں انہیں وہاں ملنے بھی گیا۔اس کو دیکھا۔وہاں بھی اس کے لئے دعا کی۔اور میں نے اس کی والدہ کو کہا کہ دیکھو کل صبح تک اس کا بخار اتر جائے ورنہ میں تمہاری خبر لوں گا۔اس رنگ میں میں نے اس سے بات کی اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کل صبح اس کا بخار اتر گیا۔اور اب وہ بالکل خیریت سے ہے۔کمزوری کچھ رہتی ہے۔تو میری طبیعت میں یہ