سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 45

سبیل الرشاد جلد دوم 45 دوسرے فرقوں میں ہمیں نظر آتے ہیں۔لیکن تم خوش قسمت قوم ہو۔تم کو اللہ تعالیٰ نے ایسا وجود بھی دیا ہے۔جس کے مقام پر آسمان سے اس نے شہادت نازل کی ہے۔اور وہ خلیفہ وقت کا وجود ہے۔صرف ایک وجود ہے جماعت کے اندر خلافتِ راشدہ میں پہلے بھی اور اب بھی جس کے متعلق قرآن کریم یہ دعویٰ کرتا ہے۔ہم بناتے ہیں۔اس مقام تک ہم پہنچاتے ہیں۔خلیفہ بنا نا خدا کا کام ہے خلیفہ بنانا خدا کا کام ہے۔بندوں کا کام نہیں اور جو حالات کو جانتے ہیں۔ان کو پتہ ہے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جنہیں ہم کہتے ہیں۔اگر ان کا داؤ چلتا جو اپنے آپ کو انتظامی لحاظ سے بڑا اچھا سمجھتے تھے۔یہ کرتا دھرتا مولوی محمد علی صاحب وغیرہ تو مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کبھی خلیفہ نہ بناتے۔لیکن اس وقت ان کا دماغ اس طرف گیا کہ جو زیادہ قرآن جانتا ہے۔اس کو بنا دو خلیفہ تا کہ اکٹھے ہو جائیں۔جب دوسری خلافت کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کی یہ بڑی نعمت ہے کہ بہت ساتھ کے ساتھ تو ڑتا چلا جاتا ہے۔جو شخص اس طرح کا زیادہ قرآن جاننے والا نہیں تھا۔جو ایک بچہ تھا جس کے متعلق انہوں نے یہ کہا تھا کہ اس کے ہاتھ میں خلافت گئی ہے۔اور چند دنوں کے بعد یہ جماعت تباہ ہو جائے گی۔خدا نے کہا کہ یہ بچہ ہو گا کیونکہ اپنے ماں باپ کے گھر ایسے زمانہ میں پیدا ہوا کہ آج ایک بچے کی عمر رکھتا ہے۔لیکن میں بچہ نہیں ہوں۔یہ ایک کمزور ہستی ہے۔مگر میری ہستی کمزور نہیں۔یہ تم جو بڑے بڑے مد بر بنے ہوئے ہو۔اور مضمون لکھتے ہو۔اور کتا بیں لکھی ہیں اور ریو یو آف ریلیجنز میں اپنی علمیت کا تم نے مظاہرہ کیا ہے۔کیا ہوگا !! مگر میرے علم کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے تم۔میں اس کو بٹھا دیتا ہوں منصب خلافت پر تا دنیا اس یقین پر پہنچے کہ خلیفہ خدا بنایا کرتا ہے۔ورنہ یہ مشتبہ ہو جائے۔جب تیسری خلافت کا وقت آیا۔اس وقت ایک اور سلسلہ شروع ہو گیا۔میں نے تنہائی میں بڑا سوچا ہے کہ اگر انسان کے ہاتھ میں خلافت کا دینا ہوتا تو میں آخری آدمی تھا جس کو یہ منصب ملتا۔ایک عاجز انسان کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔نہ کسی کی نظر میں کسی قسم کی مقبولیت رکھنے والا ہے۔اور خدا نے چپ کر کے پکڑا مجھے اور بٹھا دیا ( خلافت کے منصب پر ) خلیفہ پر اعتراض کرنا کسی انسان کا کام نہیں ہر انتخاب خلافت کے بعد آسمان کی فضا میں یہ آواز گونج رہی ہوتی ہے خدا کی کہ ” مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے یہ عاری ہیں سارے۔حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں۔جیسی روح کو کسی ماں نے نہیں جنا مگر زبان سے یہ نکلتا ہے کہ یونس بن متی سے زیادہ مجھے