سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 552 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 552

82 اس زمانہ کا مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ تیاری کا یہ مطلب ہے کہ اگر یہ حکم ہو کہ ایک ہزار آنکھ نکال دو ایک ہزار آنکھ نکال دی جائے گی۔یہ ہے تیاری! تیاری کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج سامنے آ جائے تو آٹھ گھنٹے ایک مسلمان لڑتا رہے گا کامیابی کے ساتھ لڑے گا اور فاتح ہوگا۔ہر روز، ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج سے لڑنے کے بعد شام جو نتیجہ نکلتا تھا وہ کسریٰ کی اسی نوے ہزار فوج کی شکست اور ان اٹھارہ ہزار مسلمان ، دعا گو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنے والے، توحید خالص پر قائم ہونے والے مسلمان کی فتح۔یہ نتیجہ نکلتا تھا۔تیاری اس کا نام ہے قرآن کریم کے نزدیک جو مسلمان نے سمجھا۔تاریخ میں آتا ہے کہ اتنی تیاری کرواتے تھے اپنے بچوں کو کہ بارہ سال کا بچہ آٹھ سال کے بھائی کے سر پر سیب رکھ کے تیر سے اڑادیتا تھا۔اگر دو تین انچ بھی نشانہ سے نیچے پڑے تو ماتھے پہ لگے اور مرجائے بھائی لیکن اس کو پتا تھا کہ میرا تیر سوائے سیب کے کسی اور چیز کو نہیں لگ سکتا اور یہ مشق اور مہارت تھی۔یہ ان کی کھیل تھی۔زمانہ بدل گیا ہے اس واسطے میں اپنے خدام اور انصار اور اطفال اور ناصرات سے کہتا ہوں کہ آج کی جنگ جن ہتھیاروں سے لڑنی ہے ان ہتھیاروں کی مشق ، مہارت، اور آپ کا ہنر اور پریکٹس کمال کو پہنچی ہوئی ہو۔شکل بدلی ہوئی ہوگی۔اس زمانے میں دفاع کے لئے اور دشمن کے منصوبہ کو ناکام بنانے کے لئے مادی اسلحہ کی بھی ضرورت تھی ، غیر مادی ہتھیاروں (بصائر وغیرہ) کے استعمال میں بھی ان کو مہارت حاصل تھی۔مگر ہمارے ہتھیار صرف وہ بصائر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔بصائر سے مراد دلائل ہیں۔بصیرت کی جمع بصائر ہے ایک تو ہے نا آنکھ کی نظر۔ایک ہے روحانی نظر جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصدور :(الحج: 47) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں روحانی طور پر وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں دھڑک رہے ہوتے ہیں۔ایک تو ہماری جنگ بصائر کے ساتھ ہے اور بصائر کہتے ہیں وہ دلیل جو فکری اور عقلی طور پر برتری رکھنے والی اور مخالفین کو مغلوب کرنے والی ہو ہمارے ہتھیار (نمبر دو نشان ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا اظہار جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اس لئے اور اس وقت عطا کرتا ہے جب وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ لڑ رہے ہوں۔اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔دعاؤں کے ساتھ اسے جذب کیا جاسکتا ہے۔اس کے لئے بصائر سیکھنے ، دعائیں کرنے کے جو مواقع ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس واسطے جو آنے والے ہیں ان کو آج ہی سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ جن مقاصد کے لئے ہمیں بلایا جارہا اللہ تعالیٰ انہیں پورا کرنے کے سامان کرے۔ہمیں بلایا جارہا ہے باتیں دین کی سننے کے لئے ، کچھ باتیں کہلوانے کے لئے ، ہم تقریریں کرتے ہیں یہاں آکے خدا کرے اس میں بصائر ہوں، آیات کا ذکر ہو۔نور