سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 547 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 547

77 ہو جائیں۔اس کی اجازت تو عزیزوں کو بھی نہیں۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ جاؤ اور دستک دو اور سلام کرو اور اجازت لو۔اجازت ملے تو اندر داخل ہو نہیں تو واپس آجاؤ اور واپس آجاؤ اسی میں تمہارے لئے تقویٰ کے حصول کی راہیں رکھی گئی ہیں۔غصے سے واپس نہ آؤ کہ بڑے بداخلاق ہیں انہوں نے ملنے کی اجازت نہیں دی۔وہ شخص بداخلاق ہے اسلامی نقطہ نگاہ سے جسے اجازت نہیں ملی اور اس نے بُرا منایا کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ بُرا مناتے ہوئے واپس آ جاؤ۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ ہنسی خوشی واپس آ جاؤ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ کس کام میں مشغول تھا اور اس وجہ سے تمہیں وہ نہیں مل سکتا تھا۔انصار اللہ جو ہیں وہ انصار بھی ہیں۔ان کی ذمہ واریاں اپنے دائرہ کے اندر گھروں سے باہر ہیں اور جماعت احمدیہ کے ایسے افراد ہونے کی حیثیت میں جو اپنی عمر کے لحاظ سے بڑے، تجربے کے لحاظ سے پختہ اور اگر لمبا عرصہ ان کا گزرا ہے احمدیت کی فضا میں تو علم بھی ان کا زیادہ اور وعظ ونصیحت بھی انہوں نے زیادہ بارسنا ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو اسلامی ماحول بنا ئیں اور اس بات کی ذمہ داری ہے ان کے کندھوں پر کہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کے گھروں میں تلاوت قرآن کریم ہوتی ہے، قرآن کریم کا ترجمہ ان کے گھر میں جو ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے بچے بچیاں ہیں ان کو سکھایا جارہا ہے، جو آج کی دنیا ہے اس کے متعلق بتایا جارہا ہے۔جو نوع انسانی کی آج کی ضرورتیں ہیں ان کی طرف انہیں توجہ دلائی جارہی ہے اور ان کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آج کی دنیا کے مسائل سوائے اسلام کے کسی اور جگہ سے حل نہیں کروائے جاسکتے اور یہ ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے۔یہ ایک نسل کی ذمہ داری نہیں۔اگر یہ کام ایک نسل پر ختم ہو جاتا ہے تو ہم خوش ہوتے کہ ایک نسل جو ہے ہماری عمر میں بڑی، اگر ان کی تربیت ہو جائے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبا ہیں تو ہم کامیاب ہو جا ئیں گے لیکن نسلاً بعد نسل نوع انسانی کو دائرہ اسلام میں داخل کرنا تا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ٹھنڈے سائے تلے ان کی زندگیاں گزریں اور نوع انسانی کو قیامت تک اس قابل بنائے رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کی وہ وارث ہوتی رہے۔یہ تو قیامت تک آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے اور ہر بڑی نسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگلی نسل کے دل میں یہ جوش پیدا کرے کہ جہاں تک ہمارے بزرگ پہنچے تھے ہم اس سے آگے نکلیں، آگے نکلیں۔گے تو کام ہوگا کیونکہ کام میں زیادتی ہورہی ہے۔اندرونی تربیت کو ہی لے لو۔جس وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پہلا جلسہ ہوا۔غالباً ( صحیح تعداد مجھے اس وقت یاد نہیں ہے ) ستر کے قریب تھے افراد۔چھوٹی سی جماعت تھی، اس چھوٹی سی جماعت کی اندرونی تربیت مختصر تھی۔اب ہمارے جلسے میں ڈیڑھ اور دولاکھ کے درمیان کا اندازہ ہے گزشتہ جلسے میں۔پس ذمہ واریاں بڑھ گئیں۔پہلے جس تعداد میں نئے احمدیت میں داخل ہونے والے تھے اس سے کہیں زیادہ اب داخل ہونے والے ہیں۔بعض ایسے سال بھی گزرے ہوں گے۔بعض دفعہ بڑا جوش بھی آیا