سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 543
73 کئے بغیر پیدل چل کے اس جگہ پر پہنچے جہاں اس نے اپنا چندہ Deposit کرانا ہے۔خدام الاحمدیہ اور ان ساری تنظیموں کو اتناOfficiant اتنا اہل تو ہونا چاہئیکہ وہ ایسا نظام قائم کر سکیں۔آپ کی تعداد کے مطابق میں ربوہ سے یہاں کتابیں بھجوا دوں گا اور آپ ہر گھر میں دے دیں۔اس کی قیمت کی ادائیگی کی دو شکلیں بنتی ہیں۔یا تو میں ربوہ کو کہوں گا کہ آپ سے بالاقساط رقم وصول کریں مثلاً سارا بل اگر دس ہزار کا بنتا ہے اور آپ نے یہ رقم دس مہینے میں دینی ہے تو ایک ہزار روپ دے دیں۔اگر آپ نے بیس مہینے میں وہ رقم ادا کرنی ہے (اور یہ پہلے ہی فیصلہ ہو جائے گا ) تو آپ وہاں پانچ سوروپیہ مہینہ ادا کریں با قاعدگی کے ساتھ بغیر اس کے کہ ایک خط بھی یاد دہانی کا آپ کو آئے۔اسی طرح لجنہ کرے اور انصار کریں لیکن جماعت ایک کمیٹی بنائے جو یہ دیکھے کہ میں جو کہہ رہا ہوں کہ تین تنظیمیں کریں تو میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ ابھی پہلے مرحلے میں ہی ایک گھر میں تین جلدیں اکٹھی ہو جائیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا گھر ہے جہاں خدام الاحمدیہ کی عمر کا بچہ ہی کوئی نہیں تو اس کے نئے انصار منتظم ہوں۔ایک گھر ایسا ہے جہاں مرد ہی کوئی نہیں مثلاً کئی نادان ہماری بوڑھی نوجوان کنواری لڑکیاں جو نوکری کرنے لگ گئی ہیں تھیں اٹھائیس سال کی اکیلی ہیں یعنی ابھی شادی نہیں ہوئی خاوند ہی کوئی نہیں ان کے۔تو وہ لجنہ اماءاللہ کی ممبر بنیں گی اور ان سے لے لیں گی۔جماعت احمد یہ ایک کمیٹی بنائے جو یہ دیکھے کہ یہ آپس میں Co-ordination ہو کہ یہ ایک کاپی جو آنی ہے یہ خدام الاحمدیہ کے ذریعہ اس گھر میں داخل ہوگی یا انصار اللہ کے ذریعہ لجنہ اماءاللہ کے ذریعہ اور اس سال کے اندر اندر یہ مرحلہ آپ کو کتا ہیں ملنے کا پورا ہو جانا چاہیے۔اس کی ادائیگی کی تو دیکھیں گے کیا شکل بنتی ہے کچھ جلدیں ادا ئیگی کر دیں گے کچھ یکمشت ادا ئیگی کر دیں گے۔کوئی دس مہینے میں کرے گا۔کوئی بیس مہینے میں کرے گا اس کے مطابق ہوگا۔ایسا مالی بوجھ ڈالے بغیر جسے اٹھانے کی اس شخص کو طاقت نہیں۔یہ علوم کے خزانے ان کے گھروں میں پہنچنے چاہئیں۔ہم ان کے گھروں کو ور اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی برکات سے بھرنا چاہتے ہیں یہ کتب وہاں ہونی چاہئیں یعنی یہ مرحلے دو ہیں کتب کے لحاظ سے لیکن یہ ایک وقت میں چالو ہوں گے اور علیحدہ علیحدہ اس کی رپورٹیں ہوں گی اور میرے پاس آئیں گی اور ایک سال کے اندر اندر ہر گھر میں تفسیر صغیر کا ایک نسخہ اور پانچ جلدیں تفسیر کی ہو جانی چاہئیں۔جو طاقت رکھتے ہیں وہ تو اگلے جمعہ سے پہلے پہلے خرید لیں۔مجھے یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ آپ کی ضرورت کے مطابق ربوہ میں جلدیں موجود بھی ہیں یا نہیں یا چھپوانی پڑیں گی۔اس واسطے میں نے ایک سال لگایا ہے کیونکہ پھر میں ذمہ دار ہوں انشاء اللہ کہ وہ آپ کو ایک سال کے اندریل جائیں۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ 573-575)