سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 540
70 حاصل کرنا یا اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں اور دوری کی راہوں کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں اس کے قہر کے جلووں کا دیکھنا اس کا تعلق ہے وَاليَومِ الْآخِر کے ساتھ۔پھر انسان کے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ معرفت باری کے بعد یہ یقین ہو گیا۔یہ یقین جس کے او پر بڑا زور دیا ہے اسلام نے۔اس کے بغیر ایمان باللہ بھی نہیں رہتا کیونکہ کامل ایمان جیسا کہ میں نے بتایا ہے کامل ایمان باللہ اس ایمان کو چاہتا ہے کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی ہے اور یومِ آخرت ہے اور الساعة ہے اور قیامت ہے مختلف الفاظ میں اور مختلف پیرایوں میں اسے بیان کیا گیا ہے۔تو جب جزا وسزا ہے۔یومِ آخرت وَاليَومِ الآخِر میں قیامت کے دن تو اس کے لئے ہمیں عمل کرنا چاہیے۔وَعَمِلَ صَالِحاً تیسر منطقی نتیجہ اگلا یہ نکلتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے۔اس معرفت سے ہمیں پتا لگا کہ ہم بندگی کے لئے، عبد بننے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کا کوئی فعل اور کوئی خلق ، پیدائش اور کوئی چیز جو اس نے پیدا کی ہے وہ باطل نہیں ہے۔ہماری زندگی بھی باطل نہیں ، وَاليَومِ الأخر قیامت کا دن ہے ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔یہ اپنا ایک لمبا مضمون ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں تفصیل سے آیا ہے۔دوستوں کو ان کتب کو بھی پڑھنا چاہئیتا کہ قیامت اور وَالْيَومِ الْآخِر کی جو حقیقت ہے وہ بھی بہر حال ہمارے دماغ میں حاضر رہے۔تو پھر سوال انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ کیسے قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کروں تو فرمایا وَ عَمِلَ صَالِحاً عمل صالحہ کرے۔قرآن کریم میں اعمال صالحہ کی تعریف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق ، خدا تعالیٰ کی نواہی اور خدا تعالیٰ نے جو اوامر بتائے ہیں ان کے مطابق موقع اور محل پر عمل صالحہ کرے یعنی موقع اور محل کے مطابق عمل کرے۔یہ عمل صالحہ ہے لیکن انسانی کوشش جب انسان اپنے متعلق غور کرتا ہے۔بڑی حقیر ہے اور کوئی شخص اپنے ہوش و حواس میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں اپنے عمل سے اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کے پیارکو حاصل کر سکتا ہوں العیاذ باللہ اس لئے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- قُلْ مَا يَعْبُوْا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: 78) تو عمل صالح اچھا نتیجہ کسی شخص کے لئے صرف اس حالت میں پیدا کر سکتا ہے جب وہ عمل مقبول ہو۔خدا تعالیٰ اسے قبول کرے تب اس کو جزا دے گا نا۔اس لئے جہاں تک انسانی کوشش کا سوال ہے عملِ صالحہ کا۔اس کی بنیادی حقیقت دعا ہے یعنی خدا سے اس کے فضل کو مانگنا تا کہ انسان اس کے قرب کی راہوں میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے اور دعا ہے اس کی مغفرت کے لئے التجا کرنا اور چیخ و پکار کرنا تا کہ جو باتیں، جو اعمال اس کو نا پسندیدہ ہیں اور جو اس سے دور لے جانے والے ہیں۔وہ اول سرزد ہی نہ ہوں اور اگر سر زد ہو جائیں تو ان کے بدنتائج سے ہمارا رب ہمیں بچالے۔اس مغفرت کے لئے دعا کرنا۔سو یہ دعا کے دو حصے ہیں۔نیکیوں کی تو فیق پانے کے لئے اعمال