سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 541
71 صالحہ مقبولہ کی توفیق پانے کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو طلب کر نا اور اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں اور بدیوں اور بداعمالیوں اور بھول چوک سے بچنے کے لئے یا ان کے بدنتائج سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ کی مغفرت کا طالب ہونا اس کے بغیر وہ عمل صالح جو روکھا پھیکا انسان کا اپنا عمل صالح ہے۔جس میں خدا تعالیٰ کا فضل شامل نہیں اور خدا تعالیٰ نے جسے قبول نہیں کیا ایک کوڑی قیمت نہیں رکھتا نہ خدا کے نزدیک نہ انسانی فطرت کے نزدیک کیونکہ جس نے جزا دینی ہے اس کو اگر وہ عمل پسند آئے گا تبھی وہ اس کا بدلہ احسن رنگ میں مقبول اعمال کے متعلق جو وعدے دیئے گئے ہیں اس طور پر اپنے بندوں کو دے گا اور جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے یوم آخرت پر پختہ ایمان رکھتا ہے جیسا کہ اسلام نے تعلیم دی اور اس کے مقبول اعمال صالحہ ہیں اس کے متعلق خدا نے کہا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ كه الله تعالیٰ کے ایمان کو قبول کر لینے کی علامت یہ ہے یعنی خدا تعالیٰ نے جو اس کے ایمان کو اور اس کے دلی عقیدہ کو اور اس کے اعمال صالحہ کو قبول کر لیا اس کی علامت یہ ہے کہ سچے مومنوں کو نہ تو آئندہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ وہ سابق کوتاہیوں کے بدنتائج کا شکار ہوتے ہیں تو جب ان کی اسی زندگی کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں جب یہ حالت ہو تو اس سے پتا لگتا ہے کہ ایمان سچا ہے۔دلی عقیدہ صادق اور اعمال صالحہ خدا کو مقبول ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور ہم سب کو جو انصار اللہ سےتعلق رکھنے والے ہیں اپنی عمر کے لحاظ سے انصار کی تنظیم میں ہیں۔ہم سب کو ان تین حقیقوں پر قائم ہوکر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی توفیق عطا کرے تاکہ ہم ان کے لئے جو عمر میں ہم سے چھوٹے یا علم میں اتنے پختہ نہیں یا جو تجربہ میں کم ہیں یا بعد میں آنے والی نسلیں ہیں ان کے لئے نیک نمونہ بنیں۔بدنمونہ نہ بنیں تا کہ ہر نسل اپنے دور میں سے گزر کے جب انصار اللہ میں شامل ہو تو آنے والی نوجوان نسلوں کے لئے وہ نمونہ بنتی چلی جائے تا کہ وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے مسلمان کے سپرد کیا ہے کہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرے وہ جلد پورا ہو اور یہ مقصد ہمارا اس زندگی میں بھی ہمیں حاصل ہو اور دنیا جہان کی خوشیاں مل جاتی ہیں اگر یہ مقصد حاصل ہو جائے که نوع انسانی ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کی توحید کے جھنڈے تلے جمع ہو اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار اور محبت میں مست اور سرشار آگے ہی آگے خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں پر چلتی جائے۔یہ نظارہ ہم دیکھیں۔جو دوری کی راہیں آج دنیا اختیار کئے ہوئے ہے خدا کرے وہ دوری کی راہیں قرب کی راہوں میں بدل جائیں اور اس میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہو اس رنگ میں کہ خدا ہماری کوششوں کو قبول کرے اور ہمیں بھی اس کی محبت اور پیار حاصل ہو۔آمین۔خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ 409-417)