سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 531
61 $ 1979 انصار اللہ سمیت تمام تنظیموں نے احمدی بچوں کو ضائع ہونے سے بچانا ہے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے 2 فروری 1979ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔جماعت کو چوکس رہ کر خدام الاحمدیہ کو خصوصاً اور اس سے بھی زیادہ انہی کا حصہ ہے وہ لوگ خدام الاحمدیہ کے جن کا تعلق اطفال الاحمدیہ سے ہے اور ہر خاندان کو۔یہ بڑا ضروری ہو گیا ہے ہمیشہ ہی یہ ضروری ہے کہ بچے کو ضائع نہ ہونے دیا جائے لیکن اس زمانہ میں کہ وہ جو آج سات سال کا بچہ ہے جس وقت وہ تھیں سال کا ہوگا۔آج سے تئیس سال کے بعد تو دنیا میں اسلام کے حق میں اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان کے لحاظ سے ایک انقلاب عظیم بپا ہو چکا ہوگا۔اس وقت کے حالات جو ذمہ داریاں ہمارے بچوں کے کندھوں پر ، وہ بچے جو آج سات سال کے ہیں ڈالیں گے ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی اہلیت اور طاقت اور استعداد اور صلاحیت تو ان کے اندر ہونی چاہیے۔جماعت ، خاندان، انصار، خدام الاحمدیہ، اطفال کے نظام کے عہدیدار، مائیں، بڑی بہنیں ، ہر وہ شخص جس کا کسی نہ کسی پہلو سے ایک بچے سے تعلق ہے اور وہ احمدی ہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو ذہن میں رکھے کہ اس بچے کو ہم نے خدا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کرنا ہے اور ضائع نہیں ہونے دینا۔حضور نے 24 اگست 1979ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ 52) انصار کو میں جو دو باتیں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں کہ عاجزانہ دعاؤں سے اپنے رب کو راضی کرو اور تمہارا اصل کام تربیت کا ہے اس کی طرف پوری توجہ دو تا کہ آنے والی نسلیں آنے والی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نباہنے والی ہوں۔یہ تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔اپنے بچوں اور لواحقین (Dependents) سے اور پھر ماحول کی وسعتوں میں پھیل جاتی ہے۔گھر سے گاؤں ، گاؤں سے علاقہ ، علاقہ سے ملک، ملک سے نکل کے جب بنی نوع انسان کو اپنے احاطہ میں لے لیتی ہے۔آپ پر پہلی ذمہ داری ہے دعائیں کرنا۔وہ دعائیں ہر ایک کے کام کے لحاظ سے اور ہر ایک کے ماحول کے لحاظ سے اور عمر کے لحاظ سے مختلف ہو جاتی ہیں ایک خادم کی دعا کا بڑا حصہ یہ ہے۔(طه: 115) ابھی وہ سیکھ رہا ہے۔علم دین بھی سیکھ رہا ہے، علم اخلاقیات بھی سیکھ رہا ہے، علم روحانیات بھی سیکھ رہا ہے، وہ خدا سے کہے کہ اے خدا! تو نے مجھ پر