سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 530
60 وہ اندازہ کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں دس لاکھ احمدی ہو چکا۔یہ دس لاکھ احمدی اللہ کے فضل سے ہوالیکن ان دس لاکھ احمدیوں کے کانوں میں اس قسم کی صدائیں اس رنگ میں جو ہمارے کانوں میں پڑی تھیں نہیں پڑیں۔تو ایک تو وہ طفل ہے جو احمدی کے گھر میں پیدا ہوا اور طفل کی عمر کو پہنچا اور ایک وہ طفل ہے جو جماعت احمدیہ میں داخل ہوا اور پھر ایک وقت گزرنے کے بعد کچھ اس کو واقفیت ہوئی۔زیادہ واقفیت ہوئی۔ویسے تو بنیادی چیزیں سمجھ کے ہی جماعت میں داخل ہوتے ہیں لوگ لیکن پوری تفصیل کے ساتھ جو میں تفصیل بتاؤں گا آپ کو، کتنی زبردست ہے، وہ واقفیت ان کو ہوئی۔ان میں سے کوئی طفل کی عمر کے سمجھے جانے چاہئیں کوئی خدام الاحمدیہ کی عمر کے سمجھے جانے چاہئیں۔مجھے خیال آیا کہ ہم بڑے خوش قسمت تھے کہ ہمارے چاروں طرف ( رفقاء ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بطور ہمارے معلم کے موجود تھے اور ہمارے کانوں میں وہ یہ باتیں دن رات ڈالتے تھے۔قادیان میں وہاں ایک۔آپ میں سے بہتوں نے شاید قادیان دیکھی بھی نہ ہو اور جو بچے وہاں سے ہم گودوں میں اٹھا کے لائے تھے 1947ء میں ان کو بھی کیا یا د پتہ ہو ہی نہیں سکتا کہ قادیان کا نقشہ کیا ہے۔وہاں ( بیت ) مبارک جو ہے اس کے سامنے چوک میں ایک دفعہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب ( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے ایک بڑا سا بورڈ لگا دیا کالا اور اس کے اوپر کوئی فقرے آپ لکھ دیتے تھے۔اسی طرح ان کے چھوٹے بھائی ہمارے چھوٹے ماموں یعنی حضرت مصلح موعود (اللہ آپ سے راضی ہو) کے چھوٹے ماموں ہم بھی ان کو ماموں ہی کہتے رہے ہیں۔وہ کوئی حدیث۔ارشاد نبوی کوئی قرآن کریم کی چھوٹی آیت لے کے۔آداب، کھانے کے آداب مجلس کے آداب، سڑکوں کے آداب یہ بتاتے تھے اور مہدی کے متعلق ہر وقت ذکر تھا ذ کر تازہ تھا۔تو بڑے خوش قسمت تھے ہم لوگ جن کے گرد اس قسم کے سکھانے والے تھے لیکن آپ بد قسمتی سے ایسے ماحول میں طفل کی عمر کو اور نو جوانی کی عمر کو اور اس سے نکل کے کچھ آپ میں سے انصار اللہ کی عمر کو پہنچے ہیں جنہوں نے اصولی طور پر تو ان مسائل کو سمجھا لیکن جس رنگ میں اور جس کثرت کے ساتھ اور جس پھیلاؤ میں اور تیرہ سوسال میں پھیلے ہوئے لٹریچر میں جس طرح مہدی کا ذکر آیا جس رنگ میں آیا جن الفاظ میں بیان کیا جس طرح ان چیزوں کو دنیائے اسلام نے محفوظ رکھا وہ آپ کے کان میں باتیں نہیں پڑیں۔" ( خطابات ناصر جلد دوم صفحہ 356-357)