سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 525
55 $ 1977 جماعتی ادارے یا ذیلی تنظیمیں اہم امور پر توجہ دلانے کے لئے خطبات میں مجھے درخواست کرتی ہیں حضرت طلیقہ امسح الثالث رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ انسان کو زندگی میں بہت سے جھٹکے لگتے ہیں لیکن ایک مومن کی صدا اور اس کا اعلان یہی ہے کہ میرے لئے اللہ کافی ہے۔میں نے بتایا تھا کہ ایک موقع پر جب ہم بظاہر تکلیف میں ڈالے گئے تھے تو وہاں بڑا لطف آیا۔اس وقت ایک شخص کو میں نے یہی کہا تھا کہ تجھ سے جو کوئی بات کرے تو یہی کہا کر کہ مولابس۔میرے لئے اللہ ہی کافی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اس کو اس تکلیف سے نجات دے دی۔میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک یہ ہے کہ بعض دفعہ ذہن میں کوئی مضمون آتا ہے، بعض دفعہ جماعتی لحاظ سے ضرورت ہوتی ہے اور میں اس پر خطبہ دیتا ہوں۔بعض دفعہ ادارے مجھے توجہ دلاتے ہیں کبھی انصار اللہ کبھی خدام الاحمدیہ، کبھی تحریک جدید، کبھی وقف جدید، کبھی صدر انجمن احمد یہ اور اسی طرح کبھی دوسرے ادارے وقف عارضی وغیرہ کہ اس امر کے متعلق یاد دہانی کروادیں اور کبھی خود دماغ میں کوئی مضمون آتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ بیان کر دوں لیکن بسا اوقات خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ دستور ہے، بڑا پیارا اور پیار کرنے والا رب ہے اور اکثر میرے خطبے ایسے ہیں کہ جمعہ والے دن صبح جب میں تلاوت کرتا ہوں تو تلاوت کرتے ہوئے میری آنکھ کو کوئی آیت قرآنی پکڑتی ہے اور پھر مجھے آگے نہیں ملنے دیتی۔پھر میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں۔پھر میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا منشا یہی ہے کہ میں اس آیت پر خطبہ دوں۔پھر میں سوچتا ہوں اور لغت دیکھتا ہوں ، تیاری کرنی ہوتی ہے کیونکہ تفسیر کرنا بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور سب سے بوجھل دن میں سمجھتا ہوں کہ سب خلفاء پر یہی آتا ہوگا۔میرا تو یہی تجربہ ہے کہ جمعہ کا دن بڑا بوجھل دن ہے۔اتنی ذمہ داری ہے جمعہ کا خطبہ دینا، اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ انسان استغفار کرتا ہے، بے حد استغفار کرتا ہے اور دعائیں کرتا ہے، خدا تعالیٰ پھر رحم کرتا ہے"۔( خطبات ناصر جلد 7 صفحہ 101 )