سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 35
سبیل الرشاد جلد دوم 35 ایک اور خطرہ جو الہی جماعتوں کو پیش آتا ہے یہ ہے کہ بعض دفعہ بعض لوگ اپنی خوابوں اور کشوف ورؤیا کے نتیجہ میں چھوٹی چھوٹی گڈیاں بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس قسم کے فتنے سے بھی بچتے رہنا چاہئے اور ذرا بھی کوئی ایسی چیز نظر آئے تو اُسے دبا دینا چاہئے۔جس جماعت میں خلافت راشدہ قائم ہو۔اس جماعت کے کسی فرد کو کسی دوسرے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ ڈھارس دی ہے کہ امام ایک ڈھال ہوتا ہے اور اس کے پیچھے سے لڑا جاتا ہے۔جو تیر پڑے گا۔وہ امام کے سینے پر پڑے گا۔پھر آپ کس چیز سے گھبراتے ہیں۔آپ بے خوف ہو جائیں اور بے خوف ہو کر دینی کام کریں۔اور پھر بے خوف ہو کر ان فتنوں کو چاہے وہ چھوٹے نظر آئیں یا بڑے کچلنے کی کوشش کیا کریں اور یا درکھیں کہ خلافت حقہ میں اس قسم کی کسی گڈی کی اسلام نے نہ اجازت دی ہے اور نہ اُسے تسلیم کیا ہے۔۱۹۴۰ء میں اس قسم کا ایک فتنہ جماعت میں پیدا ہوا تھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اُن کے اندر خود پسندی اور خودستائی تھی۔اور اپنی ولایت بگھارتے پھرتے تھے۔لوگوں سے کہتے تھے ہم سے دعائیں کراؤ۔حالانکہ خلافت کی موجودگی میں اس قسم کی گدیوں والی ولایت کے کوئی معنے ہی نہیں خلفاء کے زمانہ میں اس قسم کے ولی نہیں ہوتے۔نہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں کوئی ایسا ولی ہوا، نہ حضرت عمر یا حضرت عثمان یا حضرت علیؓ کے زمانہ میں۔ہاں جب خلافت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے ولی کھڑے کئے کہ جو لوگ ان کے جھنڈے تلے جمع ہوسکیں انہیں کر لیں۔تا قوم بالکل ہی تتر بتر نہ ہو جائے۔لیکن جب خلافت قائم ہو اُس وقت اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔“ پس خلافت کی موجودگی میں ایسی ولایت کا وسوسہ دراصل کبر اور اباء ہے۔اور شیطانی وسوسہ ہے۔جہاں بھی پیدا ہوا سے کچل دینا چاہئے۔آخر میں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں- آپ فرماتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ ولی اللہ بنا ہی مشکل ہے بلکہ اس مقام کا سمجھنا ہی دشوار ہوتا روز نامه الفضل ۱۶ رجون ۱۹۴۰ء صفحه یم