سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 520
50 چھوٹا سا حصہ ہے اس لذت کا جو زبان کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے اصل لذت وہ ہے جو انسان ذکر الہی سے حاصل کرتا ہے۔اسی طرح کان ہے۔دُنیا بہک گئی۔سماع ایک محاورہ بن گیا۔عجیب لوگ ہیں کہ صرف گانے سُن کر لذت حاصل کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کی آواز جب کان میں پڑتی ہے تو جو لذت کان کے ذریعہ انسان حاصل کرتا ہے اس کا کروڑواں حصہ بھی انسان گانے سُن کر حاصل نہیں کرسکتا۔ایک وہ لذت ہے جو وقتی اور چند منٹ کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور ایک وہ لذت ہے جو انسان کی زندگی کو بدل دیتی ہے یعنی پیار کی آواز۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔آپ نے جس رنگ میں اور جس طور پر خدا تعالیٰ کی آواز کوسنا اور جو لذت آپ نے محسوس کی اُس کا آپ نے کئی جگہوں پر ذکر کیا ہے اس کو بچوں کے سامنے آنا چاہئے۔شاعر کی جو آواز گانے کے ذریعہ آتی ہے یہ قابل التفات اس لئے بھی نہیں کہ شاعر تو بہک جاتا ہے ایک مصرع میں ایک مضمون ہوتا ہے تو اگلے مصرع میں اس سے الٹ مضمون ہوتا ہے۔ایک شعر میں شمال کا مضمون تھا تو دوسرے میں جنوب کا شروع ہو گیا۔گویا شاعرانہ تخیل کے اندر ہمیں بالکل متضاد اور ایک دوسرے سے بعد رکھنے والے مضامین نظر آتے ہیں لیکن ایک وہ آواز ہے جو کان کے ذریعہ ہمیں لذت دیتی ہے اور اس آواز میں نہ کوئی تضاد ہے اور نہ یہ عارضی ہوتی ہے بلکہ مستقل طور پر ہمیشہ کے لئے ہے جب تک انسان اپنے مقام پر قائم رہے یہ آواز لذت پیدا کرتی رہتی ہے۔اسی طرح مثلاً ناک ہے وہ صرف خوشبو سونگھنے والا یا بد بو محسوس کرنے والا آلہ تو نہیں ہے انسان ناک سے بہت سی روحانی چیزیں سونگھتا ہے۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ناک کہتا ہے کہ یہ چیز ہے یا یہ چیز نہیں ہے تو جیسا کہ یہ محاورہ بھی ہے کہ میں یہ Smell کرتا ہوں مثلاً دوسروں کی روحانی خوبیاں ہیں سوائے روحانی انسان کے دوسرے نے ابھی تک اس کو سمجھا ہی نہیں لیکن صرف خوشبو سونگھنے یا بد بو سونگھ کر اس سے بچنے کے لئے تو انسان کو ناک نہیں دیا گیا بلکہ اس کے بہت سے روحانی فوائد ہیں۔ہماری جتنی حسیں ہیں ان کی افادیت صرف مادی پہلوؤں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کا اصل فائدہ یہ ہے کہ وہ ہمارے لئے روحانی طور پر لذت اور سرور کے سامان پیدا کرتی رہیں۔غرض خدا تعالیٰ کا جو پیار ہے وہ ایک راستہ سے تو ہم تک نہیں پہنچا وہ تو ہر راستہ سے ہم تک پہنچتا ہے۔بد بخت ہے وہ انسان جس کو ہر راہ سے پیار نہیں ملا اور اس سے بھی بد بخت ہے وہ نو جوان جواحمدیت میں پیدا ہوا اور خدا کے پیار سے محروم رہا۔اس کی ذمہ داری انصار اللہ پر ہے۔انصار اللہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تربیت کا پروگرام بنائیں پس انصار اللہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تربیت کا پروگرام بنا ئیں اور ہر ایک کو معرفت کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ٹھیک ہے ہر ایک نے اپنی استعداد اور اپنی قوتوں کے مطابق اس معرفت کو