سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 521
51 حاصل کرنا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہمارا ہر بچہ جو اپنے دائرہ استعداد کے اندر اپنے کمال کو نہیں پہنچتا وہ مظلوم ہے اور ہمارے اوپر اس کی ذمہ داری آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کو ادا کریں۔اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو اور نئے آنے والوں کو یہ توفیق دے کہ وہ اپنے مقام کو سمجھیں جس طرح ایک اُبلنے والی دیگ جس کے اُبلنے میں کچھ وقت لگتا ہے ایک دیگ جو اُبل رہی ہے وہ بعض دفعہ آدھے گھنٹہ میں یا گھنٹے میں اس درجہ حرارت کو پہنچتی ہے لیکن اُس اُبلتی ہوئی دیگ میں دو قطرے ٹھنڈے پانی کے ڈالو تو ایک سیکنڈ میں اُبلنے لگتی ہے۔اسی طرح ہمارے اندر بھی خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کی اتنی گرمی ہونی چاہئے کہ اس کے مقابلے میں اُبلتے ہوئے پانی کی کوئی گرمی نہ ہو۔باہر سے آنے والے ہمارے اندر شامل ہوتے ہیں یا ہماری جو نو جوان نسل ہے جب وہ بڑی ہوکر اپنی ذہنی اور روحانی بلوغت کو پہنچتی ہے تو جس طرح ایک سیکنڈ یا اس کے ہزارویں حصے میں ٹھنڈے پانی کا قطرہ ابلنے لگتا ہے (جو اُبلتی دیگ میں ڈالا جائے ) اور حرارت کے بلند درجے کو پہنچ جاتا ہے اسی طرح یہ بھی خدا کی محبت اور پیار میں انتہائی طور پر گداز ہوجائیں۔پس ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دو کو تو فیق دے انصار اللہ ک بھی کہ وہ تربیت کی ذمہ داری کو نباہ سکیں اور نو جوانوں کو بھی کہ وہ اس تربیت کو قبول کر لیں اور سارے کے سارے بلا استثناء اس مقام تک پہنچ جائیں کہ وہ ہر پہلو سے معرفت الہی اور عرفانِ باری کو حاصل کر چکے ہوں اور وہ اس بات کے قابل ہو گئے ہوں کہ جب غلبہ اسلام کی اس عالمگیر اور ہمہ گیر جدوجہد میں وسعتیں پیدا ہوں اور اس وقت ہزاروں مربیوں کی ضرورت ہو تو ہزاروں لاکھوں مربی موجود ہوں تا کہ دنیا کو سنبھالا جا سکے اور نوع انسانی کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کیا جا سکے"۔( خطبات ناصر جلد 6 صفحہ 21 تا 26) جلسہ سالانہ کے لئے انصار، خدام ربوہ کوصاف ستھرا کر دیں حضور نے اپنے خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1975ء میں فرمایا۔" ہمیں سارا سال یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ربوہ میں گندگی نہ ہو اور پاکیزگی اور طہارت کے خلاف کوئی چیز نہ ہو لیکن میں نے بتایا ہے کہ اجتماعات میں گند پڑ جانے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں اس لئے جلسہ سے پہلے صفائی کرو اور جلسہ سالانہ میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھو۔جلسہ سالانہ کا نظام اور ہماری جماعت کے جو دوسرے نظام ہیں اور حکومت کا جو یہاں نظام ہے یہ ان کا کام ہے۔امید ہے کہ وہ اس کا خیال