سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 514 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 514

44 $ 1973 احیائے دین اور قیام شریعت کی بھاری ذمہ داری عہدیداران پر عائد ہوتی ہے حضرت خلیفتہ امیج الثالث رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ 16 اپریل 1973ء میں فرمایا۔قرآنی تعلیم پر عمل پیرا رہنا ہماری زندگی کا اولین مقصد ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق يُخي الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 55 ) کا الہام ہے۔اس الہام کی رو سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وساطت سے آپ کو یہ بشارت بھی دی اور احیائے دین اور قیام شریعت کی بھاری ذمہ داری بھی آپ پر عائد کی گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ آپ دین کا احیاء فرمائیں گے دین کی جو باتیں لوگ بھول گئے ہیں وہ اُن کو دوبارہ یاد کرائیں گے۔ویسے دین تو حسی یعنی زندہ ہے اسلامی شریعت تو ابدی ہے لیکن اس پر عمل کرنے والوں پر شرعی لحاظ سے جب مردنی چھا جاتی ہے تو احیائے دین یعنی بنی نوع انسان کو دین پر قائم کرے اور انہیں ایک نئی روحانی زندگی دینے کے لئے کسی آسمانی وجود کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ اسی غرض کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ہوئی ہے یعنی شریعت حقہ اسلامیہ کو قائم کرنے کیلئے آپ کو مبعوث کیا گیا ہے یہ وہ عظیم الشان فریضہ ہے جس کو سر انجام دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مہدی معہود علیہ السلام کو مرسل بنا کر اس دُنیا میں بنی نوع انسان کی طرف بھیجا ہے۔پس ان واضح ہدایات کے باوجود اگر کوئی احمدی ایسا نہیں کرتا تو وہ احمدیت سے نکل جاتا ہے لیکن اگر وہ بے جانے بوجھے ایسا نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اُس کے کانوں میں یہ باتیں بار بار نہیں ڈالیں اس صورت میں اس کی غلط روش کے ذمہ دار ہم ٹھہرتے ہیں۔مجھ پر یہ ذمہ داری آتی ہے۔جماعت کے عہدیداروں پر ذمہ داری آتی ہے۔شاہدین مربیان پر ذمہ داری آتی ہے۔صرف عہد یداران یا مربیان کا سوال نہیں بلکہ تَعَاوَنُوْاعَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوى (المائدة: 3) کی رو سے ہر ایک احمدی پر اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہم سب پر یہ ذمہ داری عقلاً اور شرعاً معروف باتوں کے متعلق ہے" ( خطبات ناصر جلد پنجم صفحہ 103-104)