سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 511 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 511

41 قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔مگر عہدیداروں کی سستی کی وجہ سے نتیجہ ٹھیک نہیں نکلتا۔جہاں بھی ایسے عہد یدار ہیں جو اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے یعنی ایمان کی کمزوری کی وجہ سے یا نا اہلیت کی وجہ سے یا احساس ذمہ داری کے فقدان کے نتیجہ میں سنتی دکھاتے ہیں ان کا بہر حال کوئی حق نہیں کہ وہ عہد یدار ر ہیں ان کو بدلنا پڑے گا" خطبات ناصر جلد چہارم صفحہ 162-163) انصار کو اجتماعات کے موقع پر تسبیحات پڑھنے کی تلقین حضور نے خطبہ جمعہ 17 نومبر 1972ء میں فرمایا۔"جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں آج انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔۔۔۔6 go۔۔۔۔۔غرض انصار اللہ بجنات دونوں کے اجتماع آج شروع ہورہے ہیں۔امت محمدیہ میں جب بھی اجتماع ہوں اس بارہ میں قرآن کریم کی ایک ہدایت موجود ہے جسے بھولنا نہیں چاہئے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی دینی اجتماع ہو اس وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اور توبہ و استغفار بڑی کثرت سے کرنا چاہئے۔اس پر نہ تو کوئی پیسہ خرچ ہوتا ہے اور نہ وقت لگتا ہے۔یہ صرف عادت کی بات ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ ان دنوں کثرت سے سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّالِ مُحَمَّدٍ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 25 ) کا ورد کریں۔تسبیح وتحمید سمیت درود پڑھنے کی تحریک تو میں پہلے بھی کر چکا ہوں۔پھر استغفار ہے یعنی اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِي مِنْ كُلِّ ذَنْبِ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ بھی کثرت سے پڑھنا چاہئے۔اس کے ساتھ جو دوست لَا حَول پڑھ سکیں وہ لَا حَولَ بھی پڑھیں۔میرا تجربہ ہے کہ استغفار کرنا اندرونی کمزوریوں کے دور کرنے کے حق میں اکسیر کا حکم رکھتا ہے اور لا حول بیرونی حملوں کے شر سے حفاظت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔پس لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَ نَّكُمُ (ابراہیم : 8 ) کی رو سے آپ جتنی زیادہ تسبیح وتحمید کرینگے آپ اپنے محسن اور انسانیت کے محس صلی اللہ علیہ وسلم پر جتنا زیادہ درود پڑھیں گے اتنے ہی زیادہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے انصار اللہ کا اجتماع عملاً جمعہ کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔اسلئے دوست ابھی سے تسبیح و تحمید اور درود و استغفار پڑھنے لگ جائیں اور اگر ہو سکے تو اپنے اس ورد میں لا حول کو بھی شامل کر لیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر اپنے فضل نازل فرمائے۔اسکی جو برکات ہمارے لئے مقدر ہیں اور ان برکات کے حصول کیلئے جس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں وہ قربانیاں دینے