سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 502

32 میں نے آپ کو کچھ معیار بھی بتائے تھے یعنی دفتر اول اس حساب سے اوسطا رقم دے رہا ہے دفتر دوم کی اوسط کیا ہے اور دفتر سوم کی اوسط کیا ہے اور چونکہ دفتر اول کی اوسط بہت اچھی تھی اور اب بھی ہے اسلئے میں نے اس میں زیادتی نہیں کی تھی دفتر اول میں جو حصہ لینے والے ہیں ان کی اوسط فی کس۔64 روپے ہے اور یہ اوسط بڑی اچھی ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ دفتر اول میں بہت سے احباب کافی بڑی عمر کے ہیں اور میرا یہ خیال ہے (اگر چہ اس حصہ کی میرے پاس رپورٹ تو نہیں لیکن ان کی میرے پاس جو روزانہ رپورٹیں آتی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے) کہ دفتر اول کی مجموعی رقم کم ہوگئی ہے اور ہونی چاہئے تھی کیونکہ بڑی عمر کے لوگ اس میں شامل ہیں۔وفات بھی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے بعض دفعہ تو روزانہ یا دوسرے دن یہاں جنازہ آجاتا ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ زندگی تو فانی ہے ہمیشہ کے لئے دنیا میں تو کسی نے نہیں رہنا ہم یہاں آئے ہیں پھر گزرجائیں گے۔تاہم دفتر اول والوں نے اپنی 64 کی اوسط برقرار رکھی ہے اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزاء عطا فرمائے 64 کے مقابلے میں دفتر دوم کی اوسط فی کس غالباًا۔20 یا۔21 تھی لیکن میں نے کہا اسے 30 تک لیکر جاؤ یہ اوسط بڑھی تو ہے لیکن 30 تک ابھی نہیں پہنچی صرف 24 تک پہنچی ہے۔دفتر دوم وہ دفتر ہے جس نے دفتر اول کی جگہ لینی ہے اور عملاً خاموشی کے ساتھ لے رہا ہے۔دفتر اول میں حصہ لینے والوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ نئے تو اس میں شامل نہیں ہور ہے۔دفتر دوم کی تعداد زیادہ ہے اور انہوں نے ان کی جگہ لینی ہے اور پھر دفتر سوم نے دفتر دوم کی جگہ لینی ہے اور پھر دفتر چہارم آ جائے گا اپنے وقت پر جس نے دفتر سوم کی جگہ لینی ہے۔دفتر اول کی اوسط فی کس اور دفتر دوم کی اوسط فی کس میں بڑا فرق ہے۔ایک طرف 64 روپے فی کس اور دوسری طرف 24 روپے فی کس جس کا مطلب یہ ہے کہ 40 روپے فی کس کا فرق ہے اور یہ فرق ہمیں فکر میں ڈالتا ہے اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ دفتر دوم میں قربانی کی وہ روح نہیں جو دفتر اول میں پائی جاتی ہے یہ بھی ہے کہ دفتر دوم والوں کی آمد شروع تھوڑی ہوتی ہے مگر انسان ترقی کرتا ہے مثلاً جو دوست گورنمنٹ کے ملازم ہیں ان کی ہر سال ترقی ہوتی ہے جتنی بڑی عمر کے ہوں گے وہ زیادہ تنخواہ لے رہے ہوں گے پھر انسان تجربے میں بھی ترقی کرتا ہے ایک شخص نو کر نہیں لیکن تجارت کر رہا ہے شروع میں اسے تجربہ نہیں یا شروع میں اس کے پاس سرمایہ نہیں تھا پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے مالوں میں برکت ڈالتا ہے وہ اپنے تجربے میں بھی ترقی کرتے ہیں اور ان کے سرمائے میں بھی ترقی ہوتی ہے، ان کی آمد بھی زیادہ ہونے لگ جاتی ہے یہ اپنی جگہ صحیح ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ 64 اور 24 کی نسبت ہمارے دل میں بڑا فکر پیدا کرتی ہے۔اس لئے ہمیں دفتر دوم کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے اور ان کے معیار کو بلند کرنا چاہئے۔دفتر سوم میں بہت سے طالب علم بھی ہیں دفتر دوم میں بھی کچھ ہوں گے لیکن دفتر