سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 482
12 دیں لیکن جماعتی تنظیم سے معذرت نہ کر بیٹھیں۔یہ طریق قطعاً جائز نہیں بہر حال جماعتی کام کو ذیلی تنظیموں کے کام پر مقدم رکھنا ہوگا۔اور جہاں جہاں مجالس خدام الاحمدیہ نے قرآن کریم کے پڑھانے کا انتظام جماعتی انتظام سے علیحدہ ہو کر اپنے طور پر شروع کر دیا ہے۔وہ میری آواز پہنچتے ہی اس کام کو بند کر دیں اور اپنی خدمات جماعت کے پریذیڈنٹ یا امیر کو پیش کر دیں اور جماعتی انتظام کے ماتحت اس کام کو کریں۔قرآن کریم کا سمجھنا، اس کا فہم حاصل کرنا سب سے اہم کام ہے مگر قرآن کریم خود فرماتا ہے کہ جب مجھے سمجھنا ہوتو یاد رکھو کہ اپنے نفس کی اصلاح کے بعد میرے پاس آنا کیونکہ سوائے اس شخص کے جو پاک ہو میں کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا اور اگر تم مطہر ہوئے بغیر مجھے ہاتھ لگانا چاہو گے تو مجھے خدا تعالیٰ نے یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ ہاتھ مجھے چھونے نہیں پائے گا۔تمہارا ہاتھ مجھے اس وقت چھو سکے گا جب تم جتنا مجھے جانتے ہو۔اس پر عمل کرنے والے بھی ہو۔اور پھر میرے پاس اس نیت کے ساتھ آؤ کہ جو زائد علم تم مجھ سے حاصل کرو اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالو گے۔یہ بڑا ہی اہم کام ہے قرآن کریم کا سمجھنا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔قرآن کریم کی اشاعت کے لئے ہی ہمیں زندہ کیا گیا ہے اور ہمیں منظم کیا گیا ہے اس الہی سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے قائم ہی اسی لئے کیا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا بھر میں اس رنگ میں پھیلائیں کہ دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے کہ اگر ہم اس دنیا اور اخروی زندگی کی فلاح چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا ہوگا۔دنیا میں قرآن کریم کی تعلیم آپ پھیلا کیسے سکتے ہیں جبکہ خود آپ کو ہی اس کا علم حاصل نہ ہو۔تو جو ہماری پیدائش کی غرض ، ہمارے قیام کی غرض اور ہماری زندگی کا مقصود ہے وہ حاصل ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ ہم خود قرآن کریم کو نہ سمجھیں اور اس کے علوم اچھی طرح ہمارے ذہنوں میں مستحضر نہ ہوں۔پس میں تمام امراء اضلاع کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ضلع کی ہر جماعت میں قرآن کریم پڑھانے کا با قاعدہ ایک نظام کے ماتحت انتظام کریں اور ہر دو ماہ کے بعد مجھے اس کی رپورٹ بھجوایا کریں" (خطبات ناصر جلد اول صفحہ 206-211) ذیلی تنظیمیں خلیفہ وقت کے اعضاء ہیں حضور نے خطبہ جمعہ 25 نومبر 1967 ء میں فرمایا۔" اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کام خلیفہ وقت کے سپرد کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک بڑا اہم کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کریں کہ قوم اِعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللهِ “ کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزار