سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 30
30 سبیل الرشاد جلد دوم اور دوسرے یہ کہ خواہ تم روحانیت میں کتنے ہی بلند مقام تک کیوں نہ پہنچ جاؤ۔ہمیشہ یہ سمجھو کہ روحانیت کی جو چادر ہمیں پہنائی گئی ہے۔وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پہنائی گئی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ایک لحظہ کے لئے بھی ہم سے جدا ہو جائے تو روحانیت کی یہ چادر بھی فوراً ہم سے جدا ہو جائے گی ، تو ہر چیز مستعار ہے۔جب تک کہ انجام بخیر نہ ہو جائے اور انسان ابدی رحمتوں کے دروازہ میں داخل نہ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔دد کبھی یہ دعویٰ نہ کرو کہ میں پاک صاف ہوں۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ کہ تم اپنے آپ کو مزکئی مت کہو۔وہ خود جانتا ہے کہ تم میں سے متقی کون ہے۔جب انسان کے نفس کا تزکیہ ہو جاتا ہے تو خدا اس کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے اور جیسے ماں بچے کو گود میں پرورش کرتی ہے اسی طرح وہ خدا کی گود میں پرورش پاتا ہے۔اور یہی حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کا نور اس کے دل پر گر کر کل دنیاوی اثر وں کو جلا دیتا ہے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔لیکن ایسی حالت میں بھی اُسے ہرگز مطمئن نہ ہونا چاہئے کہ اب یہ طاقت مجھ میں مستقل طور پر پیدا ہوگئی ہے اور کبھی ضائع نہ ہوگی۔جیسے دیوار پر دُھوپ ہو تو اس کے یہ معنے ہر گز نہیں ہوتے کہ یہ ہمیشہ ایسی ہی روشن رہے گی۔اسی پر لوگوں نے ایک مثال لکھی ہے کہ دیوار جب دھوپ سے روشن ہوئی تو اس نے آفتاب کو کہا کہ میں بھی تیری طرح روشن ہوں۔آفتاب نے کہا کہ رات کو جب میں نہ ہوں گا تو پھر کہاں سے تو روشنی لے گی ؟ اسی طرح انسان کو جو روشنی عطا ہوتی ہے وہ بھی مستقل نہیں ہوتی۔بلکہ عارضی ہوتی ہے اور ہمیشہ اُسے اپنے ساتھ رکھنے کے لئے استغفار کی ضرورت ہے۔انبیاء جو استغفار کرتے ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ ان باتوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور ان کو خطرہ لگا رہتا ہے کہ نور کی چادر جو ہمیں عطا کی گئی ہے۔ایسا نہ ہو کہ وہ چھن جاوے۔۔۔کوئی نبی جس قدر زیادہ استغفار کرنے والا ثابت ہو گا اُسی قدر اس کا درجہ بڑا اور بلند ہوگا۔لیکن جس کو یہ حالت حاصل نہیں تو وہ خطرہ میں ہے اور ممکن ہے کہ کسی وقت اس سے وہ چا در حفاظت کی چھین لی جاوے۔کیونکہ نبیوں کو بھی وہ مستعار طور پر ملتی ہے۔اور وہ پھر سوره النجم آیت ۳۳