سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 468 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 468

سبیل الرشاد جلد دوم 468 فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِیعًا صحیح عزت ، ہر قسم کی عزت، ساری کی ساری عزت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔اس سے لیں آپ۔بڑی عزت دیتا ہے۔ہمارا مبلغ یہاں عام پھر رہا ہے ہوتا ہے۔آپ کے سامنے سے گزرتا ہے۔آپ اس کی قدر ہی نہیں پہچان رہے ہوتے۔وہ افریقہ میں جاتا ہے۔جو صدر مملکت ہے، وہ کھڑا ہو جاتا ہے۔جب اس کے دفتر میں ملنے جاتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ عزت دیتا ہے۔جو آپس میں انہوں نے عزتیں بانٹیں ، آپس میں سر بھی اڑائے۔یہ تو دنیا اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ہم نے تو خدا تعالیٰ کے کام کرنے ہیں اور وہ کھیل نہیں۔ہم نے سنجیدگی کے ساتھ خدمت کرنی ہے بنی نوع انسان کی۔اور ( میں نے بڑا مختصر کیا تھا۔مختصر ہی ہے میں سمجھتا ہوں ) چوتھی خدا تعالیٰ کی صفات کی بنیاد یہ ہے : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ اور اس کو باندھا ہے يَسْلُهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ زمين و آسمان کی ہر شئے اپنی ضرورت اس سے مانگتی ، اس سے پاتی ہے۔عجیب اعلان ہے۔یہاں اگر ٹھہر جاتا قرآن کریم تو وہ عظمت جو كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کے ساتھ کہہ کے انسانوں کو شامل کیا ہے۔دوسری چیزوں کو بھی ساروں کو شامل کیا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کہہ کے یہ اعلان کیا کہ ترقیات کے غیر محدود دروازے تمہارے اوپر کھول دیئے ہیں ہم نے۔اس کی صفات کا ہر جلوہ پہلے سے مختلف ہوتا ہے۔انسان کا خدا تعالیٰ کے قرب کی طلب میں ہر قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہئے۔اس لئے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سے فائدہ اٹھانے کے لئے خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق ہر آن اس کے حضور عاجزانہ متضرعانہ دعا کے ساتھ قائم کرنا ضروری ہے جو ممکن نہیں۔جب تک ہم نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے حضور جھکیں اور اسی کی مدد سے اس کے ساتھ زندہ تعلق کو قائم کریں۔66 غیر محدود ترقیات کے دروازے یہ اعلان کھولتا ہے۔ہر قدم فلاح اور رفعت کی طرف بڑھتے رہنا چاہئے اللہ کے فضل سے کیونکہ (یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فقرہ ہے ) انسان اپنے تمام کمالات اور تمام حالات اور اپنے تمام اوقات میں خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا محتاج ہے۔اس واسطے ہر احمدی کو انفرادی طور پر اور جماعت کو جماعتی طور پر اور جماعت احمدیہ کو اجتماعی طور پر اپنے تمام کمالات اور تمام حالات اور تمام اوقات میں خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے حصول کیلئے کوشش کرنی چاہیئے اور خدا کی رضا کو حاصل کر کے اپنی زندگی کے مقصود کو پالینا چاہئے تا کہ دنیا میں ایک ایسی جماعت ہو جو کسی اور کو دکھ دینے کا سوچے بھی نہ۔سب کے سکھ کا سامان پیدا کرنے کی نیت سے اپنا قدم آگے بڑھا رہی ہو۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا کرے آمین۔النساء آیت ۱۴۰ سورة الرحمن آیت ۳۰ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اصفحه ۴۵۸ حاشیہ