سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 444

444 سبیل الرشاد جلد دوم روحانی فیوض حاصل کرنے کے لئے کچھ نہیں پایا۔یہ معنے ہیں اگر نبی کے اور یہی معنے ہیں نبی کے جیسا کہ ابھی میں بتاؤں گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہی معنے گئے ہیں۔اور اگر یہ درست ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد کوئی شخص چھوٹے سے چھوٹا روحانی رتبہ اور درجہ بھی حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کامل اتباع اپنی استعداد کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ کر رہا ہو۔تو پھر ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔نبی کی مذکورہ تعریف کی رو سے کوئی نبی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ,, چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں۔یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں اور ہمارا کوئی رسول بحجر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے۔سو دین کو بچوں کا کھیل بنانا نہیں چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں بجز خادمِ اسلام ہونے کے اور کوئی دعوی بالمقابل نہیں ہے۔اور جو شخص ہماری طرف اس کے خلاف منسوب کرے وہ ہم پر افتراء کرتا ہے۔ہم اپنے نبی کریم کے ذریعہ سے فیض و برکات پاتے ہیں اور قرآن کے ذریعہ سے ہمیں فیض معارف ملتا ہے۔یعنی نبی کے یہ معنی ہیں اور اس معنی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ہم یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان اور رفعت اور بلندی اور قرب الہی کی پوری اور حقیقی معرفت رکھتا ہے اور اس کے دل میں ایک ایسی محبت پیدا ہوتی ہے آپ کے لئے کہ کسی اور کے دل میں ویسی پیدا نہیں ہو سکتی اور کامل اتباع کرتا ہے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کے ذکر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود میں محو رہتا ہے۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہر وہ روحانی فیض حاصل کر سکتا ہے جو پہلے انبیاء نے براہ راست خدا تعالیٰ سے حاصل کیا۔یعنی بالفاظ دیگر جو الحکم ۱۷ار اگست ۱۸۹۹ء صفحه ۶ نمبر ۲۹ جلد۳